ڈائیلاگ کی ضرورت
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰
اس دنیا میں جمہوری طاقت اور تشدد کی طاقت کے درمیان لازمی طور پر کوئی برابری نہیں ہے۔ اکثریت اور اقلیت کے درمیان عددی تناسب کے اعتبار سے یقیناً فرق ہوتا ہے۔ مگر تخریب کاری کی صلاحیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ اایک گروہ جتنی تخریب کاری کر سکتا ہے، دوسرا گروہ بھی یقینی طور پر اتنی ہی یا اس سے زیادہ تخریب کاری کر سکتا ہے۔ اس لیے اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس معاملہ پر از سر نو غور کیا جائے اور اس کا کوئی قابل عمل حل تلاش کیا جائے، اس سے پہلے کہ بربادی کی وہ حد آجائے جس کے بعد تلافی کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
اولاً، دسمبر اور اس کے بعد ۱۲ مارچ کے واقعہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس ملک میں ہندو اور مسلمان کا مسئلہ دو گونہ نوعیت کا ایک مسئلہ ہے۔ نتیجہ کے اعتبار سے، وہ دونوں میں سے کسی کے لیے بھی یک طرفہ برتری کا مسئلہ نہیں۔
اس مسئلہ کی سنگینی یہ ہے کہ ہندو اپنی اکثریتی طاقت کی بنا پر مسلمان کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے، مسلمان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ہندو سے اس کی یہ حیثیت چھین سکے۔ دوسری طرف مسلمان اپنی تمام تر عددی کمی کے باوجود، یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ ہندو کے لیے از عاج (nuisance) پیدا کر سکے۔ اور ہندو بھی کسی حال میں مسلمان سے اس کی یہ حیثیت چھیننے پر قادر نہیں۔
اس طرح ہندو اور مسلمان دونوں یکساں طور پر ایک دوسرے کے لیے سامان تشویش (concern) بن گئے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ دونوں ہی ٹھنڈے دل کے ساتھ اس معاملہ پر غور کریں اور دو طرفہ مفاد (mutual interest) کی خاطر اس کا کوئی مستقل حل نکالیں۔ ورنہ اگر یہی حالات باقی رہے تو دونوں اپنے آپ کو تباہ کرلیں گے۔ اس کے بعد دونوں میں سے کوئی بھی ترقی کی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔
ڈائیلاگ کی ضرورت
ان حالات میں میری تجویز ہے کہ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے نمائندہ افراد کے درمیان ایک مؤثر قسم کا ڈائیلاگ منعقد کیا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہو کہ ہندو۔ مسلم جھگڑے کو اس
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues