دو طرفہ معاملہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱۹
رکھتا ہو تو وہاں ایسے دو گروہوں کے درمیان حریفانہ کش کش کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ دونوں کے درمیان مستقل طور پر فرضی یا حقیقی مسائل چھڑے رہتے ہیں۔
انڈیا میں ہندو اور مسلم مسئلہ کا اصل سبب یہی نزاکت ہے۔ ہندو یہاں مجارٹی میں ہیں اور مسلمان یہاں نکست ٹو مجارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں یہ مسئلہ ہر سماج میں پایا جاتا ہے۔ اس کے نقصانات سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ اس کے بارہ میں لوگوں کو باشعور بنا دیا جائے۔ باشعور آدمی اپنی تعمیری سوچ کی بنا پر ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے جن سے بے شعور آدمی اپنے آپ کو بچا نہیں پاتا۔
دو طرفہ معاملہ
۶ دسمبر ۱۹۹۳ء کو اکثریتی فرقہ کے جن لوگوں نے اجودھیا کی بابری مسجد کے ڈھانچہ کو ڈھایا تھا، وہ بطور خود سمجھ رہے تھے کہ یہ معاملہ ان کے لیے یک طرفہ معاملہ ہے۔ مگر اس کے بعد ۱۲ مارچ ۱۹۹۲ کو اقلیتی فرقہ کے کچھ ناراض افراد نے جب بمبئی میں تیرہ طاقتور بموں (High-tech bombs) کا بھیانک دھماکہ کر کے ملک کی اقتصادی راجدھانی کو ہلا دیا تو معلوم ہوا کہ یہ معاملہ دو طرفہ ہے۔ پہلا فرقہ اگر دوسرے فرقہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو دوسرا فرقہ بھی نقصان پہنچانے کے معاملہ میں پہلے فرقہ سے کم نہیں۔ چنانچہ بمبئی کے بم دھماکوں (Bomb blasts) کے بعد آر ایس ایس کے انگریزی ہفت روز ہ آرگنائزر (۲۸ مارچ ۱۹۹۳) نے اپنے پہلے صفحہ پر اس کی جو رپورٹ چھاپی ہے ، اس کی سرخی با معنی طور پر یہ قائم کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ ہم کتنے محفوظ ہیں :
How safe are we?
اس حقیقت کا اعتراف دوسرے بہت سے مبصرین نے بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر بزرگ صحافی مسٹر کلدیپ نائر (ریڈنس نمبر ۔ ۱۰ اپریل ۱۹۹۳) نے بمبئی کے حادثہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ واقعہ ایک چیتاونی ہے کہ اگر آبادی میں ۱۲ فی صد کی تعداد رکھنے والا گروہ تباہ کیا جا سکتا ہے تو ۸۲ فی صد کی تعداد رکھنے والے ہندو بھی نقصان سے محفوظ نہیں رہ سکتے : It is a warning that if they, the 12 per cent of the population, are sought to be destroyed, the 82 per cent of the Hindus will not stay unhurt.
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues