Al-Risala · June 1993 · page 22

آخری چارہ کار

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲

مزاج عام طور پر روادار رہا ہے۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے عروج کے بعد ہندوؤں کے ایک طبقہ میں کسی قدر جارحانہ مزاج پیدا ہو گیا تھا جو کیمیاب ڈائیلاگ کے راستہ میں رکاوٹ تھا۔ مگر دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد سامنے آنے والے حالات نے انھیں اپنے رویہ پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ اب ان کے اندر بھی وہ حقیقت پسندی آگئی ہے جو ڈائیلاگ کی کامیابی کے لیے ہمیشہ ضروری ہوتی ہے۔ اپریل ۱۹۹۳ کے دوسرے ہفتہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ (کلکتہ) بھی اس معاملہ میں ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ کیوں کہ اس میٹنگ میں پارٹی کے اعلیٰ ذمہ داروں نے طے کیا ہے کہ وہ ٹکراؤ اور جارحیت کے طریقہ کو چھوڑ کر امن اور مفاہمت کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔

آخری چارہ کار

اس ہندو مسلم ڈائیلاگ کو اس عزم کے ساتھ منعقد ہونا چاہیے کہ اس کو بہر حال نتیجہ خیز بنانا ہے۔ اس کو کسی بھی حال میں ”نشستند و گفتند و برخاستند“ کا مصداق نہیں ہونے دینا ہے، اور اگر عزم صحیح ہو تو ایسا ہونا کچھ بھی مشکل نہیں۔

اس ڈائیلاگ کا پہلا مطلوب نشانہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے دونوں فرقے ایک مشترکہ اتفاق نامہ تک پہنچ جائیں۔ اگر ایسا ہو تو بلا شبہ یہ پوری ہندوستانی قوم کے لیے نہایت خوش قسمتی کی ہوگی، اور ہم سب کو اس کے حق میں خدا سے اسی کی دعا کرنا چاہیے۔ لیکن بالفرض اگر اس سے اس قسم کا مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو، اور ڈائیلاگ کی کارروائی بتا کہ دو طرفہ بنیاد پر اس مسئلہ کا حل نکلنے والا نہیں ہے۔ تو ایسی صورت میں آخری چارہ کار کے طور پر میں اپنے مسلم بھائیوں سے کہوں گا کہ وہ اپنے پیغمبر کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے اس بات کے لیے تیار ہو جائیں کہ وہ یک طرفہ بنیاد پر اس مسئلہ کو ختم کر دیں گے تاکہ ملک میں امن وامان قائم ہو، اور اس خطہ ارض میں بسنے والے تمام لوگ معتدل حالات میں زندگی گزارنے کا موقع پاسکیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سالہ دعوتی عمل کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس ہجرت کے بعد بھی ایسا نہ ہو سکا کہ دونوں فریق کے درمیان جھگڑا ختم ہو جائے اور اہل عرب

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page