Al-Risala · June 1993 · page 23

دو مثالیں

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳

و پرامن زندگی کے مواقع حاصل ہو جائیں۔ حتی کہ معاملات اس نوبت کو پہنچ گئے کہ بالکل ظاہر ہو گیا کہ یہ نزاع دوطرفہ بنیاد پر ختم ہونے والی نہیں ہے۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حریف طبقہ کی تمام شرطوں کو مانتے ہوئے ایک طرفہ بنیاد پر اس نزاع کا خاتمہ کر دیا۔ ختم نزاع کا یہی وہ عمل ہے جس کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے وقت اعلان کیا تھا کہ قریش (فریق مخالف) ج مجھ سے جس چیز کے لیے بھی کہیں گے جس میں کہ قرابت خواری پائی جاتی ہو تو وہ چیز ضرور میں انھیں دوں گا (لا تدعونى قريش اليوم الى خطة يسألونني فيها صلة الرحم الا اعطیتهم اياها) سيرة ابن هشام ۳۵۸/۳ میرا مشورہ ہوگا کہ ایسی صورت میں مسلمان اس اسوہ رسول کی اسپرٹ پر عمل کرتے ہوئے برادران وطن سے یہ کہہ دیں کہ ملک میں شانتی لانے کی خاطر ہم ہر اس شرط کو ماننے کے لیے تیار ہیں جس سے انڈیا کا وقار اور اس کی اعلیٰ روایتیں باقی رہتی ہوں، جو دیش کی مجموعی ترقی کا راستہ کھولنے والا ہو۔

مسلمان بھائیوں کے اطمینان کے لیے مزید میں کہوں گا کہ اس طرح کا تصفیہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے، وہ کبھی بھی مستقل یا ابدی نہیں ہوتا۔ مسلمان اگر اس معاملہ میں یک طرفہ ایڈ جسٹمنٹ پر راضی ہو جائیں تو وقتی طور پر بظاہر یہ ان کے لیے کھونے کا واقعہ دکھائی دے گا۔ مگر عین ممکن ہے کہ مستقبل کے لحاظ سے وہ ان کے لیے نئی ، زیادہ بڑی کامیابی کا دروازہ کھولنے کے ہم معنی بن جائے۔

دو مثالیں

اس کی عملی مثالیں قریب کی تاریخ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ (اور اس کے حلیفوں) نے جرمنی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اسی طرح امریکہ کی فوجیں جاپان کی سرزمین پر اتر گئیں۔ اور جنرل میکار تھر نے جاپانی قوم کے لیے ایک نیا دستور تیار کیا جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ جاپان آئندہ کبھی بھی اور کسی اعتبار سے بھی فوجی طاقت بننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ (10/87)

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page