غلطی کی تصحیح
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹
ایک سفر
پونہ میں مسیحی چرچ کے تحت ایک بہت بڑا ادارہ De Nobili College ہے۔ اس کے تحت ایک مذہبی مطالعہ کا ادارہ Institute for the Study of Religion قائم ہے۔ اس ادارہ نے ایک امریکی ادارہ کے تعاون سے پونہ میں ۲-۶ - ۶ نومبر ۱۹۹۱ء کو ایک کل مذاہب کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس کی تھیم تھی: ’’ ریلیجن اینڈ سوسائٹی‘‘ اس کانفرنس کی دعوت پر پونہ کا سفر ہوا اور اس کے بعد بمبئی وغیرہ کا سفر۔ ذیل میں اس کی روداد درج کی جاتی ہے۔ ۲ نومبر کو گھر سے نکل کر ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوا تو انسانی تاریخ کا نقشہ میرے ذہن میں گھومنے لگا۔ موجودہ زمانہ میں سفر کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے۔ وہ سواری پر بیٹھ کر پختہ سڑکوں سے گزرتا ہوا اسٹیشن یا ایئر پورٹ پہنچتا ہے۔ وہاں اس کے لئے ایک اور سواری موجود ہوتی ہے جو اس کو لیکر تیزی سے آگے روانہ ہوتی ہے اور اس کو اس کی منزل تک پہنچادیتی ہے۔ منزل پر دوبارہ یہی سارے انتظامات ہوتے ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنے آخری مطلوب مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ چند ہزار سال پہلے انسانی زندگی اس سے بالکل مختلف تھی۔ انسان نیم حیوانات کی طرح جنگلوں میں رہتا تھا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ترقی شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ شہری زندگی کا دور آگیا جس کو مدنیت (Urbanization) کہا جاتا ہے۔ مسلم عہد سے پہلے یہ رفتار بہت سست تھی۔ مسلم عہد میں انسانی تہذیب نہایت تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھی۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں نے بغداد کی جس طرح تعمیر کی وہ ماضی کے شہروں سے اتنا مختلف ہے کہ شہری تاریخ میں وہ ایک چھلانگ معلوم ہوتا ہے۔
اربن پلاننگ کے پروفیسرایگلی (Ernst Arnold Egli) نے اس کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن میں جنت کی زندگی اور جنت کے مکانات کا جس طرح بار بار ذکر کیا گیا ہے، اس نے مسلمانوں کے اندر عمدہ مکانات اور اعلی تمدن کے بارہ میں ایک خیالی تصویر (dream image) بنائی۔ انھوں نے اس خیالی تصویر کو واقعہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجہ میں مسلم دنیا کے جدید شہر وجود میں آگئے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues