غلطی کی تصحیح
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸
غلطی کی تصحیح
میری ملاقات یوپی کے ایک ہندو نوجوان سے ہوئی ۔ وہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو اجودھیا میں موجود تھے جب کہ وہاں بابری مسجد کو ڈھایا گیا اور اس کی جگہ ایک عارضی مندر کی تعمیر کی گئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے ایسا کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی پچھلی تاریخ میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، ان غلطیوں کو ہمیں درست کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے اپنے خیال کے مطابق، ۶ دسمبر کو ایک بڑی غلطی کی تصحیح کر دی۔ اب بتائیے کہ اس تصحیح سے دیش کا کتنا کلیان ہوا۔ لوگوں کے دکھوں میں کتنی کمی واقع ہوئی۔ خود آپ نے اپنی زندگی میں ترقی کی کتنی اور سیڑھیاں طے کیں۔ وہ میرے اس سوال کے جواب میں کوئی متعین بات نہ بتا سکے۔
پھر میں نے کہا کہ میرے بھائی! اگر آپ دیش کی غلطیوں کو درست کرنا چاہتے ہیں تو یہاں اور بھی زیادہ بڑی بڑی غلطیاں موجود ہیں، ان کو درست کیجئے ۔ اجودھیا کی مسجد صحیح بنی تھی یا غلط، یہ تو ایک ایسا تاریخی مسئلہ ہے جو ابھی طے نہیں ہوا۔ مگر یہاں اور بہت سی بھیانک غلطیاں ہیں جن کا غلط ہونا مسلم ہے، پھر آپ ان کو درست کرنے میں اپنی طاقت کیوں نہیں لگاتے۔ میں نے کہا کہ ہمارا دیش ، ۱۹۴۷ء میں آزاد ہوا۔ مگر وہ دوبارہ اقتصادی غلامی میں جکڑ گیا۔ آپ دیش کو اقتصادی غلامی سے نکالنے اور اس کو سچی آزادی میں سانس لینے کا موقع دیجئے ۔ ایک وقت تھا کہ بھارت ایک مہان دیش سمجھا جاتا تھا۔ آج عالمی نقشہ میں بھارت صرف ایک پچھڑا ہوا دیش بن گیا ہے۔ آپ دوبارہ بھارت کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلائیے۔
پہلے بھارت اپنی اعلیٰ روایتوں کے لیے مشہور تھا۔ آج وہ تمام روایتیں ٹوٹ چکی ہیں۔ آپ ان اعلیٰ روایات کو دیش میں دوبارہ قائم کیجئے ۔ پہلے دیش کے اندر قانون کا احترام پایا جاتا تھا۔ آج یہاں ہر طرف لاقانونیت پھیلی ہوئی ہے۔ آپ اس لاقانونیت کو ختم کر کے قانون کا دور واپس لائیے۔ پہلے ہمارا دیش اپنی خوش حالی کے لیے مشہور تھا۔ آج یہاں کی آبادی غریبی کا شکار ہو رہی ہے۔ آپ اس غریبی کو مٹا کر اس کو دوبارہ خوش حال بنائیے ۔ درست کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ان غلطیوں کو درست کریں نہ کہ فرضی غلطیوں کو جس سے دیش کا کچھ بھلا ہونے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues