Al-Risala · June 1993 · page 31

غلطی کی تصحیح

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱

ایک قصہ یاد آ گیا جو میں سے کسی اخبار میں پڑھا تھا۔ ایک انگلش میں ایک بار کسی ایئر لائن کے ریزرویشن کاؤنٹر پر کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک موٹی عورت تیزی سے چلتی ہوئی کھڑکی کی طرف بڑھی ۔ اس کا ٹکٹ فرسٹ کلاس کے لئے تھا۔ مگر کلرک نے غلطی سے اس کو عام درجہ کا بورڈنگ پاس دے دیا تھا۔ عورت دوبارہ ہجوم کر کے کھڑکی پر پہنچی اور اپنا بورڈنگ پاس درست کروا کے فاتحانہ واپس ہوئی۔ عورت سے دھکا لگنے کی بنا پر لائن میں کھڑے ہوئے انگریز کا ٹکٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا تھا۔ اس نے جھک کر اپنا ٹکٹ زمین سے اٹھایا اور سنجیدگی کے ساتھ خاتون سے کہا کہ میڈم، فرسٹ کلاس بورڈنگ پاس کا نام نہیں۔ فرسٹ کلاس ایک طلوق زندگی ہے:

Madam, first class is not a boarding pass. It is a way of life. دہلی سے پونہ کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۴۴ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کے اندر پڑھنے کے لئے انگریزی اور ہندی میں مختلف چیزیں موجود تھیں۔ ان میں سے ایک صنعتی میگزین (Industrial Products Finder) تھا۔ یہ اس کا شمارہ اکتوبر ۱۹۹۱ تھا۔ ۲۳۲ صفحہ کے اس میگزین کے چار حصے تھے :

1. Industrial News Briefs 2. Commercial Info Exchange 3. Technical Articles 4. Product Index یہ میگزین بزنس پریس (Business Press) کی طرف سے شائع ہوتا ہے جس کا ہیڈ آفس بمبئی میں ہے۔ پورا میگزین صنعتی خبروں یا صنعتی سامانوں کے اشتہار سے بھرا ہوا تھا۔ عنوان نمبر ۲ کے تحت بہت نے لوگوں کی طرف سے یہ اعلان تھا کہ ہم فلاں صنعتی شعبہ سے دلچسپی رکھتے ہیں اور ایسے لوگوں سے رابطہ (contact) قائم کرنا چاہتے ہیں جو اس شعبہ میں ہم سے تعاون کریں یا فنی جانکاری (Technical know-how) دے سکیں۔

میں نے سوچا کہ مادی شعبوں میں لوگ دوسروں کا تعاون تلاش کر رہے ہیں۔ اور دینی شعبوں میں یہ حال ہے کہ دوسروں سے کٹ کر ہر آدمی اپنی الگ دنیا بنانا چاہتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page