غلطی کی تصحیح
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲
اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ صنعت کار کا بنیادی مقصد کاروبار کو بڑھانا ہوتا ہے اور فنکارانہ ہناؤں کا بنیادی مقصد شخصیت کو بڑھانا۔
چڑیوں کو بالائی فضا میں اڑتے ہوئے دیکھ کر قدیم زمانہ سے انسان یہ خواہش کرتا رہا ہے کہ وہ فضا میں اڑے۔ قدیم اسپین میں ایک مسلمان عباس بن فرناس دم ۸۸۸) تھا ۔ اس کے اندر نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کا شوق تھا۔ اس نے خاص طرز کی ایک بڑی سی چادر بنائی اور پھر چھتری کی مانند اس میں اپنے آپ کو باندھا اور بلندی پر چڑھ کر فضا میں چھلانگ لگائی۔ تھوڑی دور جا کر وہ زمین پر گر پڑا اس کے دونوں بازو ٹوٹ گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کا معاملہ قاضی سلیمان بن اسود الغافقی کی عدالت میں پیش کیا۔ قاضی نے اس کو غیر معتدل قرار دے کر حکم دیا کہ آئندہ وہ اس قسم کے تجربات نہ کرے۔
احمد شریف الرفاعی کا مضمون (المدينة (19 اکتوبر (۱۹۸۹) نہ سے گزرا۔ موصوف نے لکھا تھا کہ اگر عباس بن فرناس پر روک نہ لگائی جاتی تو یقیناً ہم ہوا بازی کے طریقہ کو ہزار سال پہلے جان لیتے ۔ (لقد اعدموة علمياً ... ولو تركوة لشأنه لعرفنا الطيران قبل اكثر الف سنة)
عرب مضمون نگار نے اپنا یہ مضمون من شرفات التراث کے عنوان کے تحت شائع کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو نظر جان سکے کہ ہوائی جہاز کا بننا طویل علمی تحقیق اور بے شمار تجربات کے بعد ممکن ہوا ہے۔ اس میں پوری انسانیت کا سفر شامل ہے۔ وقت کی حکومت اگر عباس بن فرناس کے لئے ساری سہولتوں کا ڈھیر لگا دیتی تب بھی یہ نا ممکن تھا کہ جو ہوائی مشین بیسویں صدی میں بنی، وہ اچانک نویں صدی میں بن کر تیار ہو جاتی۔
میرے ساتھ بار بار ایسا پیش آیا ہے کہ میں ٹکٹ کے باوجود سفر نہ کر سکا۔ مثلاً ایک بار میرے پاس لمبے سفر کا ٹکٹ تھا۔ کسی وجہ سے مجھے اپنے سفر کو مختصر کرنا پڑا۔ میں نے ٹکٹ کی بچی ہوئی رقم کا دوا چرخ بنوایا جو اس کے بعد کئی سفروں میں کام آیا۔
آخر میں میرے پاس دہلی ۔ بمبئی کا ریٹرن ٹکٹ تھا۔ اس ٹکٹ کو دوبارہ رقم کی صورت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ صرف سفر ہی میں اس کو استعمال کرنا ممکن تھا۔ مگر بار بار ایسے حالات پیش آئے کہ میں بمبئی کا سفر نہ کر سکا، یہاں تک کہ ٹکٹ کی مدت آخری طور پر ختم ہوگئی، اور وہ استعمال کے قابل
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues