غلطی کی تصحیح
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵
جو گویا سواری کی زندہ مشین ہے۔ اس کے بعد انسان پر اسٹیم اور پٹرول کی طاقت منکشف کی جس کے نتیجہ میں ٹرین اور کار بنے۔ اور آخر میں ہواائی جہاز جیسی تیز رفتار سواری انسان کو عطا کی۔ اس تدریجی طریق کار کے نتیجہ میں ایسا ہو کہ پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کے لئے کار اور ہوائی جہاز پر بیٹھنا ممکن نہ ہو سکا۔ پیغمبر تمام انسانوں میں سب سے زیادہ مقدس لوگ تھے۔ مگر ان کے تمام تر قدس کے باوجود خدا نے ان کے لئے اپنے قانون تدریج کو نہیں توڑا۔ اس سے خدا کی سنت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تدریج اس دنیا کے لئے خدا کا اٹل قانون ہے۔ وہ کسی بھی وجہ سے اور کسی کے لئے بدلا نہیں جاتا۔ یہاں لوگوں نے بتایا کہ ۲۲ ستمبر 1991 کو پونہ میں گنیش چترتھی کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی۔ اگر دونوں جلوس ایک دن نکلتے تو یقینی تھا کہ پونہ میں فرقہ وارانہ فساد ہو جائے اور جشن کا دن غم کے دن میں تبدیل ہو جائے۔ پونہ کی سیرت کمیٹی نے مشورہ کرکے یہ فیصلہ کیا کہ ہم لوگ اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ چنانچہ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن موخر کرکے ۲۷ ستمبر کو نکالا۔ اس طرح دونوں جلوس پرامن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ اس واقعہ پر پولیس کے لوگ اور ہند و حضرات بہت خوش ہوئے۔ اور مسلمانوں کی دانشمندی کی تعریف کی۔ اس طرح دونوں جلوس پرامن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ سیرت کمیٹی پونہ نے اپنے فیصلہ کی اطلاع مراٹھی اخباروں میں شائع کرا دی تھی۔ اس سے پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اس کی خبر ہو گئی۔ چنانچہ کئی مقامات پر مسلمانوں نے یہی کیا کہ اپنے جلوس کی تاریخ بدل دی۔ اس طرح پورا مہاراشٹر فساد کے خطرہ سے بچ گیا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اب نیا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ ردعمل کی پالیسی ترک کر رہے ہیں اور اس کے بجائے اعراض کے طریقہ کو اپنی پالیسی کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ پونہ میں ایک صاحب نے کہا کہ مجھے ”شتم رسول“ کے مسئلہ پر آپ سے سوال کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ فرمائیے ۔ اس کے بعد جب وہ بولے تو انھوں نے ایک پوری تقریر کر ڈالی۔ انھوں نے اپنے مفروضہ مخالفین کے اوپر الزام تراشی بھی کی۔ ان کی پرجوش تقریر ختم ہوئی تو میں نے نرمی کے ساتھ کہا : یہ اسلام نہیں ہے کہ آدمی تحقیر رسول کے مسئلہ کو جانے مگر وہ تحقیر مسلم کے مسئلہ سے بے خبر ہو۔ تقسیم ملک (۱۹۴۷) سے پہلے ایک بار کسی سفر کے دوران میں پونہ ریلوے اسٹیشن سے گزرا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues