Al-Risala · June 1993 · page 24

غلطی کی تصحیح

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴

کانفرنس والوں نے بلیو ڈائمنڈ ہوٹل (پونہ) میں قیام کا انتظام کیا تھا۔ چنانچہ سب لوگوں کے ساتھ پہلے ہوٹل پہنچا۔ یہ ہوٹل شہر کے باہر ہے۔ چنانچہ ہوٹل پہنچنے کے بعد ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میرا قیام شہر میں ان لوگوں کے ساتھ ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ ملاقات کی صورت نکل سکے۔ میں نے کہا کہ کانفرنس کے منتظمین اگر اجازت دیدیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ منتظمین نے اجازت دے دی۔ چنانچہ ہم سب لوگ ہوٹل سے شہر واپس آگئے۔

اس کے بعد میرا قیام پہلے مسٹر پی اے انعام دار کے مکان پر رہا۔ کانفرنس کے پروگرام کے مطابق، میٹنگوں میں شرکت کے لئے روزانہ ڈائمنڈ ہوٹل جاتا اور پھر دوبارہ انعام دار صاحب کے یہاں واپس آ جاتا۔ آخر میں میرا قیام جناب عبد الصمد صاحب کے مکان پر تھا۔ پونہ اور بمبئی کے درمیان ایک تیز رفتار ٹرین چلتی ہے۔ اس کا نام "دکن کوئین" ہے۔ ٹرین کا نام پونہ کے نام پر ہے۔ مرہٹوارہ کا سب سے زیادہ خوبصورت شہر ہونے کی بنا پر پونہ کو دکن کوئین کہا جاتا تھا۔ اسی کے نام پر اس ٹرین کا مذکورہ نام رکھا گیا۔

سترھویں صدی میں مرہٹہ حکومت نے پونہ کو اپنی راجدھانی بنایا۔ کچھ عرصہ کے لئے اس پر مغلوں کا قبضہ ہو گیا۔ مگر ۱۷۷۳ء اسے دوبارہ مرہٹوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ ۱۸۱۸ میں برٹش حکومت نے اس پر قبضہ کیا جو ۱۹۴۷ تک قائم رہا۔

برٹش دور میں پونہ میں تعلیم کا رواج کافی بڑھا۔ یہاں سب سے زیادہ اسکول اور کالج قائم کئے گئے ۔ چنانچہ جواہر لال نہرو نے ایک بار پونہ کو "انڈیا کا آکسفرڈ اور کیمبرج" کا نام دیا تھا۔ ۱۹۶۱ میں یہاں ایک ہیبت ناک واقعہ ہو انتھا۔ پنشیت ڈیم کسی وجہ سے منہدم ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم پونہ کا ایک حصہ اس کی زد میں آکر بہہ گیا۔

دہلی سے پونہ ۱۶۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ قدیم زمانہ میں دہلی سے پونہ پہنچنے کے لئے ۱۶ دن سے بھی زیادہ وقت درکار تھا۔ مگر آج یہ سفر صرف دو گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ ۲ نومبر کو میں نے عصر کی نماز دہلی (نظام الدین) کی کالی مسجد میں ادا کی۔ مغرب کی نماز دوبارہ دہلی ایئر پورٹ پر پڑھی۔ اور عشاء کی نماز کے وقت میں پونہ پہنچ چکا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو پیروں کے ساتھ پیدا کیا تاکہ وہ چل سکے۔ پھر اس کو گھوڑا دیا

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page