Al-Risala · June 1993 · page 27

غلطی کی تصحیح

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۲۷

چودہ سو سال پہلے ایک انسانی مصلح اگر عرب میں اٹھتا تو وہ صرف حال کے دائرہ میں سوچتا، جب کہ اقرأ ابدی دائرہ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ حال کے اعتبار سے عرب میں یہ مسائل تھے کہ وہاں پانی نہیں۔ وہاں محفوظ راستے نہیں۔ ایک شخص جس کو صرف انسانی نظر حاصل ہو وہ اسی قسم کے قریبی مسائل میں الجھ جائے گا۔ مگر رسول نے علم کا پیغام دیا جو ابدی اہمیت کا حامل تھا۔ جو حال سے لے کر مستقبل تک انسان کے کام آنے والا تھا۔ اور جو اپنے وسیع انطباق کے اعتبار سے دوسرے تمام شعبوں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔

پونہ کی مذاہب کانفرنس کی مختلف نشستوں میں اسلامی نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ شہر میں بھی کئی پروگرام ہوئے۔ ان سب کا تذکرہ یکجائی طور پر آئندہ کیا جائے گا۔ فیروز پور ناوال سے ملاقات ہوئی۔ وہ بے سودی تجارت کے پرجوش مبلغ ہیں۔ انھوں نے پونہ میں بینک سے پندرہ لاکھ روپیہ سودی قرض لے کر ایک انڈسٹری لگائی۔ وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے بعد انھوں نے سامان وغیرہ بیچ کر بینک کا قرض ادا کیا اور سود کے بغیر انڈسٹری چلانے کا فیصلہ کیا۔ آج وہ کامیابی کے ساتھ اپنی انڈسٹری چلا رہے ہیں۔

وہ بوہرہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ بوہرہ فرقہ کے لوگ تجارت میں بہت کامیاب ہیں۔ اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا۔ سادہ زندگی اور کم خرچ۔ ہم نومبر کو مجھے انھوں نے اپنا کارخانہ دکھایا اور اپنے گھر بھی لے گئے۔ ان کی زندگی کو میں نے اس اصول کا معیاری نمونہ پایا۔ ان کا فلیٹ ہم لاکھ روپیہ کا ہے۔ اور ان کی انڈسٹری ایک کروڑ روپیہ سے زیادہ کی ہے۔ مگر ان کی زندگی انتہائی حد تک سادہ ہے۔

پونہ کے قریب پیر قمر علی درویش (م ۶۳۲ھ) کی درگاہ ہے۔ یہ درگاہ ۱۹۵۱ء سے باقاعدہ رجسٹرڈ طور پر قائم ہے۔ ساتھیوں کے کہنے پر اس کو دیکھنے کے لیے گیا۔

یہاں ”سوچنا بورڈ“ پر کچھ ہدایات لکھی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک ہدایت یہ ہے: نیا زاود دوسرے پروگرام مسلم طریقے سے کرائیں یہاں صحن میں کالے رنگ کا ایک گول پتھر رکھا ہوا ہے۔ اس کا وزن تقریباً ساٹھ کلو ہے۔ طاقت ور آدمی اس کو اکیلا اٹھا سکتا ہے۔

اس پتھر کے لئے یہاں روایت ہے کہ قمر علی درویش کا نام لے کر اٹھانے سے وہ اپنے آپ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page