Al-Risala · June 1993 · page 38

غلطی کی تصحیح

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۳۸

اٹھ جاتا ہے۔ طریقہ کے مطابق، گیارہ آدمی پتھر کے چاروں طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر ایک اپنی ایک انگلی پتھر سے لگاتا ہے۔ اور پھر ہر ایک لمبا سانس کھینچ کر کہتا ہے " قمر علی درویش ... " اس کے بعد پتھر اٹھ جاتا ہے۔ اور اس وقت تک اٹھارہتا ہے جب تک سانس نہ ٹوٹے۔

میرے سامنے کئی بار لوگوں نے اس تدبیر پر عمل کر کے پتھر کو اٹھایا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ یہ ایک سادہ فطری واقعہ ہے نہ کہ کوئی پراسرار واقعہ۔

پونہ کی مذاہب کانفرنس کے اجلاس بلیو ڈائمنڈ ہوٹل میں ہوئے۔ ۳۰ نومبر کو کانفرنس کے شرکاء تین مختلف گروپ میں بانٹ دئے گئے۔ میرے گروپ میں ایک درجن افراد تھے جو اسلام ، ہندو ازم اور مسیحیت سے تعلق رکھتے تھے۔ ہر ایک نے مذہب کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کئے ۔ ذریعہ اظہار یہاں صرف انگریزی تھا۔

میں نے محسوس کیا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ عام طور پر اپنے آبائی مذہب کے بارہ میں بے یقینی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مثلاً ہند و صاحبان نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے مذہب میں انسانیت کو چار ذاتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ بات میرے ذہن کو اپیل نہیں کرتی۔ مسیحی حضرات نے اپنے بارہ میں بتایا کہ مسیح کی ابنیت خدا کا عقیدہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ وغیرہ میری باری آئی تو میں نے کہا کہ میں نے اصلا اسلامی مدرسہ میں تعلیم پائی ہے۔ انگریزی میں نے بعد کو پرائیویٹ طور پر پڑھی۔ مگر جو اسلام مجھے خاندانی وراثت یا مدرسے کے ماحول میں ملا تھا۔ اس سے میرے اندر بغاوت پیدا ہوئی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد میں نے بطور خود اسلام کا اور دوسرے مذاہب کا باقاعدہ طور پر مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اسلام کی صداقت از سر نو میرے اوپر منکشف ہوئی اور میں نے دوبارہ شعوری طور پر اسلام کو قبول کیا۔ اس طرح اسلام میرے لئے ایک ذاتی دریافت ہے نہ کہ محض قومی عقیدہ۔

میں نے کہا کہ اسلام کی فطری تعلیمات کے علاوہ اسلام کی جس چیز نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا وہ اسلام کا تاریخی پہلو تھا۔ دوسرے مذاہب کی کوئی معلوم اور مستند تاریخ نہیں۔ جب کہ اسلام مکمل طور پر اور مستند طور پر ایک تاریخی مذہب ہے۔ اسلام کو خصوصی اور امتیازی طور پر تاریخی اعتبار یت (historical credibility) حاصل ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page