Al-Risala · June 1993 · page 1

غلطی کی تصحیح

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۱

(God Conference) کے نام سے دنیا کے مختلف ملکوں میں کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ انڈیا میں یہ ان کی پہلی کانفرنس تھی۔ موجودہ زمانہ میں ہر مذہب ہی گروہ میں اس کی روایات کا احیاء ہو رہا ہے۔ دوسرے مذاہب میں بھی اور اسلام میں بھی۔ البتہ یہاں ایک فرق ہے۔ لوگوں سے گفتگو کے دوران میں نے پایا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ عمومی احیاء مذہب کی اس لہر کو زمانہ سے منسوب کرتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اس کو اپنے اپنے اکابر کے کارنامہ کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔

اسلامی عبادت کا پروگرام ۴ نومبر کی صبح کو جناب فیروز پورہ والے نے کیا۔ اس میں انہوں نے صرف تلاوت قرآن کو لیا۔ پہلے قرآن کا ایک حصہ خوش الحانی کے ساتھ پڑھا۔ اس کے بعد اس کا انگریزی ترجمہ سنایا۔ مزید انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کا انگریزی ترجمہ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی عبادت کی تشریح کی۔ اور عبادت کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کی۔ تمام حاضرین نہایت غور کے ساتھ اس کو سنتے اور دیکھتے رہے۔ بعد کو کانفرنس کے کئی شرکاء نے قرآن کے مطالعہ سے دلچسپی ظاہر کی اور قرآن کا انگریزی ترجمہ طلب کیا۔

۵ نومبر کی صبح کو مسیحی عبادت (Christian prayer) کا دن تھا۔ سب سے پہلے ایک بڑے شمع دان پر کئی موم بتیاں جلائی گئیں۔ اس کے بعد اسٹیج پر ایک مسیحی مرد اور دو مسیحی خاتون آئیں۔ انہوں نے باری باری انجیل (انگریزی) کے کچھ حصے پڑھے۔ اس کے بعد ملے ہوئے کمرہ سے ایک مرد اور ایک خاتون برآمد ہوئے۔ ان کے ساتھ ہارمونیم اور طبلہ تھا۔ انہوں نے ہندی اور بنگالی میں بھجن گائے اور ہارمونیم اور طبلہ بجایا۔

آج بھی مجھے دوبارہ وہی احساس ہوا جو ہند و عبادت کے دن ہوا تھا۔ مسیحی عبادت مجھے عبادت سے زیادہ ایک سماجی تقریب نظر آئی۔ ایک فرد کی فطرت اپنے آپ کو خدا کی پرستش میں شامل کرنا چاہتی ہے، مگر یہ مقصد ان عبادتی تقریبات کے ذریعہ حاصل نہیں ہوتا۔

آج صبح کی میٹنگ میں مذہبی تعدد رول کا مسئلہ زیر بحث تھا۔ میں نے کہا کہ اسلام میں اصل اہمیت "اسپرٹ" کی ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں انہیں باتوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے جن کا تعلق روح یا اسپرٹ سے ہے۔ ظاہری نوعیت کی احکامی آیتیں قرآن میں نسبتاً کم

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page