غلطی کی تصحیح
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۳۹
حاصل نہیں۔
۳ نومبر کی شام کی میٹنگ میں بعض لوگوں نے کہا کہ اسلام جہاد (قتال) کا مذہب ہے میں نے اس سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں جنگ صرف بطور دفاع ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے پھر کیوں لڑائی لڑی۔ میں نے کہا کہ اس کا تعلق ایج فیکٹر سے ہے نہ کہ خود اسلام کی تعلیمات سے۔ قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں ہر مذہب کو تشدد کے مرحلہ سے گزرنا پڑا۔ اب آزادی کا زمانہ ہے۔ اس لئے اب عام حالات میں اس قسم کی صورت پیش آنے کا موقع بھی نہیں۔
کانفرنس تین دن کے لئے تھی۔ ہر روز پہلا پروگرام عبادت سے متعلق ہوتا تھا۔ پہلے دن ہندو عبادت، دوسرے دن اسلامی عبادت، تیسرے دن کرسچن عبادت۔ ۳ نومبر کی صبح کو عبادتی رقص (prayer dance) کا مظاہرہ تھا۔ چھ آدمیوں کی پارٹی اسٹیج پر آئی۔ اس کے پانچ ممبر ساز اور نغمہ میں مصروف ہوگئے۔ ایک ممبر نے اسٹیج پر رقص کی صورت میں اس کو مجسم کرنا شروع کیا۔ میں نے اپنے قریب کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب سے کہا کہ میں طبعی طور پر ان چیزوں سے انجوائے نہیں کرسکتا۔ مگر آج میں خاص طور پر واقفیت حاصل کرنے کے لئے اس عبادتی پروگرام کو دیکھ رہا ہوں۔ میرا تاثر یہ تھا کہ یہ طریقہ عبادت کو اسٹیج کا شو‘ بنا دیتا ہے۔ ایک یا چند آدمی عبادت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بقیہ لوگ تماشائی کے طور پر اس کو دیکھتے ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اسلام کے سوا ہر مذہب میں عبادت زیادہ تر غیر‘ کا ایک فعل ہے۔ وہ میرا اپنا فعل نہیں۔ ان طریقوں میں ہر آدمی اپنے آپ کو عملِ عبادت میں شامل نہیں کر پاتا۔ وہ گویا اپنے لئے دوسرے سے عبادت کرواتا ہے۔ مزید یہ کہ جو شخص عبادت کو اسٹیج کر تا ہے اس کے لئے بھی عبادت زیادہ تر ایک آرٹ ہوتا ہے نہ کہ عبادت میں ذاتی شمولیت۔
اسلام میں چوں کہ عبادت اپنی اصل فطری حالت میں محفوظ ہے، اس لئے اسلام کا طریق عبادت ہی وہ واحد طریقہ ہے جس میں ہر آدمی ذاتی طور پر شامل ہو جاتا ہے۔ اسلام میں ہر آدمی اپنی عبادت خود کرتا ہے۔
پونہ کی اس کانفرنس کو امریکہ کے ایک مسیحی ادارہ نے اسپانسر کیا تھا۔ وہ گاڈ کانفرنس ۲۹ الصالح جون ۱۹۹۳
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues