الم رساله جون ۱۹۹۳
الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲
کانفرنس کی ایک ڈیلی گیٹ ایک ۳۶ سالہ جرمن خاتون Mrs. Ursula McLackland تھیں ۔ انھوں نے ایک میٹنگ میں اپنا تجربہ بتایا جو بہت سبق آموز تھا۔ ان کے الفاظ میں، وہ تجربہ یہ تھا: The highest value in the eyes of the German youths is to become independant. Personally I don't agree. I was educated to look forward to lead an independant life away from my family as soon as I entered university. But, to my surprise, I was lonely and miserable, missing the interaction with my family. I, therefore, came back to my family. I also joined the German Unification Church to fill the gap in my life. However, I think I am rather an exception. Those of my generation are also not happy but they do not know why that is so. They have lost the conviction, becoming skeptics. One reason of the ever-increasing tourism industry lies in the restlessness found in our generation. It is this dissatisfaction with their lives that they are attracted to travelling, in search of some happiness, fulfillment in life. جرمن نوجوانوں کی نظر میں سب سے زیادہ قابل قدر چیز آزاد ہونا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ ابتداً میری تعلیم اسی ڈھنگ پر ہوئی کہ تعلیم کی تکمیل کے بعد میں اپنے خاندان سے باہر اپنے لئے ایک زندگی حاصل کروں۔ مگر جب میں نے ایسا کیا تو تعجب خیز طور پر میں نے پایا کہ میں تنہا ہو گئی ہوں اور مصیبت میں پڑ گئی ہوں۔ میرے خاندان سے میرا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ آخر کار میں اپنے خاندان کی طرف واپس آئی۔ مزید میں یونی فیکیشن چرچ سے وابستہ ہو گئی تاکہ میں اپنی زندگی کے خلا کو پر کر سکوں۔ تاہم میرا خیال ہے کہ میں جرمنی میں ایک استثنا ہوں۔ میری نسل کے اور جو لوگ ہیں وہ خوش نہیں ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے یقین کو کھو دیا ہے۔ وہ شک میں مبتلا ہیں۔
آجکل مغربی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ یہ لوگ اپنی زندگی سے غیر مطمئن ہیں، اس لئے وہ اپنے مقامات سے نکل کر ادھر ادھر جا رہے ہیں تاکہ وہ زندگی میں خوشی اور اطمینان کو تلاش کر سکیں۔ منشیات میں اضافہ کا سبب بھی یہی ہے۔
پونہ کا نفرنس میں ڈاکٹر محمد اقبال جمیل سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں ایک تعلیمی طریقہ کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اس میں پڑھنے سے زیادہ مشاہدہ پر زور ہے۔ چنانچہ اس کو تعلیم بذریعہ فطرت (Teaching through the study of nature) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق بچوں کو کتابوں کے ذریعہ پڑھانے کے بجائے فطرت کے مظاہر کے ذریعہ پڑھایا جاتا ہے۔ مثلاً علم نباتات کو
‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues