Al-Risala · June 1993 · page 43

الم رساله جون ۱۹۹۳

الرسالہ، جون ۱۹۹۳، صفحہ ۴۳

براہ راست پودوں اور درختوں کے مطالعہ کے ذریعہ۔

عرب کے صحرا میں جب ہاجرہ اور اسماعیل کو بسایا گیا اور ان کے ذریعہ صحرا کے ماحول میں ایک نئی نسل بنائی گئی تو وہ گویا اس طریق تعلیم کا پہلا تجربہ تھا۔ کھلے میدان، پہاڑ، سورج، چاند، ستاروں کے ماحول میں بنو اسماعیل کو بسانا دراصل ان کو فطرت کی درس گاہ میں داخل کرنا تھا۔ اس درس گاہ فطرت میں تربیت پا کر جو اعلیٰ نسل تیار ہوئی اسی سے خیرامت کا وہ انسانی مجموعہ نکالا گیا جس کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے۔

پونہ کے ایک مسلمان بزرگ نے بابری مسجد کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہ تھا۔ یہ ہماری نااہل لیڈر شپ ہے جس نے اپنی غلط پالیسیوں سے بابری مسجد کو ایک مسئلہ بنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ اب جب کہ معاملہ بگڑ چکا ہے، اب اس کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اب تو صرف ایک حل ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمان اس محاذ سے ہٹ جائیں اور ہندوؤں کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقہ کو اپنا کام کرنے کا موقع دیں۔ ہندوؤں میں پچاس فیصد سے زیادہ لوگ اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔ مگر جب ہم کسی مسئلہ کو ہند وقوم کے وقار کا مسئلہ بنا دیں تو اس طبقہ کے لئے اپنا عمل کرنا سخت دشوار ہو جاتا ہے۔

پونہ میں الرسالہ کے ایک قاری سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک مشہور عربی درس گاہ کے فارغ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کے انگریزی اقتباسات میں بعض اوقات اردو ترجمہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے مجھے الجھن ہوتی تھی۔ میں شکایت کرتا تھا کہ دیکھو، انھوں نے انگریزی نقل کر دی مگر اس کا ترجمہ شامل نہیں کیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں خود انگریزی پڑھ ڈالوں۔ اس سے مجھے دہرا فائدہ ہوگا ۔ چنانچہ میں نے انگریزی پڑھنا شروع کر دیا۔ خدا کے فضل سے اب میں نے اتنی انگریزی سیکھ لی ہے کہ انگریزی اقتباسات کو ترجمہ کی مدد کے بغیر سمجھ لیتا ہوں۔

یہ واقعہ مجھے بہت پسند آیا۔ اس مزاج کا تعلق صرف انگریزی سے نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دوسرے کی شکایت کرنے کے بجائے خود اپنی لیاقت کو بڑھائے۔ یہی تعمیری مزاج ہے۔ یہ مزاج اگر لوگوں کے اندر آجائے تو بہت سے مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں۔ تقریباً دو ہفتہ کے اس سفر میں پونہ، بمبئی اور شولاپور جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر جگہ کافی تعداد میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 1993 All issues

Printed page