علماء کا رول اسلام میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۸
صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ اصرار امت کو یہ اشارہ دیا کہ آپ کے بعد وہ ابو بکر صدیق رض کو امیر مقرر کرے۔ دوسری طرف آپ نے ابو ذر غفاریؓ، ابو ہریرہؓ اور حسان بن ثابتؓ کو یہ مشورہ دیا کہ تم کبھی کوئی حکومتی عہدہ قبول نہ کرنا۔ پیدائشی صلاحیتوں کے اس فرق کی بنا پر کچھ لوگ حکومتی شعبوں کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو سیاسی صلاحیت رکھنے والوں کے حوالے کر کے بقیہ لوگوں کو اپنی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ملت کے مختلف شعبوں میں مصروف کر دیا جائے۔ اس کے مطابق ، اہل سیاست کا کام اگر تنظیم انسانی ہے تو اہل علم کا کام تعلیم انسانی۔ اہل علم اور اہل سیاست کے درمیان تقسیم کار کے معاملہ کو حدیث میں اور زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں ، خاص طور سے کتاب الفتن کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں حکومتی بگاڑ کے ذیل میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر تم لوگ دیکھو کہ حکمران بگڑ گئے ہیں تب بھی تم حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم اپنی تلواروں کو توڑ دینا مگر ایسا نہ کرنا کہ حکمرانوں کو ظالم قرار دے کر ان سے لڑنے لگو۔
یہ در اصل مذکورہ تقسیم عمل کو آخری اور انتہائی صورت میں بھی باقی رکھنے کی تاکید ہے۔ یعنی علماء امت کو نہ صرف عام حالات میں معلم انسانی کا کردار ادا کرنا ہے۔ بلکہ اس وقت بھی انہیں اسی تعمیری کام میں لگے رہنا ہے جب کہ وہ دیکھیں کہ حکمرانوں کے اندر بگاڑ آ گیا ہے۔ حکومتی نظام خواہ بظاہر کتنا ہی بگڑا ہوا نظر آئے مگر علماء کو کسی بھی حال میں اپنے مفوضہ کام سے نہیں ہٹنا ہے۔ ایک حدیث محمد بن عبد اللہ الخطیب التبریزی کی ”مشکاۃ المصابیح“ میںکتاب الا مارۃ والقضاء کے تحت ایک حدیث آئی ہے۔ اس کا مطالعہ اس ذیل میں بہت اہمیت رکھتا ہے :
عن یحیی بن ھاشم عن یونس بن ابی اسحاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عن ابیہ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: جیسے تم لوگ ہوگے ویسے ہی تمہارے اوپر کہا تکونُونَ كذلك يُؤَمَّرُ عليكم - حاکم بنائے جائیں گے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہے کونیت بشری ، اور دوسری چیز ہے امارت بشری۔ کونیت بشری سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ اور ان کی پسند و ناپسند کیا ہے۔ اور امارت بشری
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues