علماء کا رول اسلام میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۹
سے مراد ہے کسی انسانی مجموعہ کے اوپر سیاسی حاکم ہونا۔ کونیت بشری کے اعتبار سے کوئی سماج جس حالت میں ہوگا اسی کے مطابق اس سماج کے درمیان سیاسی ڈھانچہ بنے گا۔
علماء ابدی طور پر کونیت بشری کے نگراں ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ ہر دور میں تکوین شعوریا شکلا مانی کی تصحیح کرتے رہیں۔ اور امارت انسانی یا سیاسی ڈھانچہ کی تولیت کا کام اہل سیاست کے حوالے کر دیں۔ زندگی کا نظام جب تک تقسیم عمل کے اس اصول پر چلے گا، وہ درست رہے گا۔ اور جب یہ تقسیم عمل باقی نہ رہے تو زندگی کا نظام بھی بگڑ جائے گا۔ صحیح انسانی شاکلہ سے صحیح نظام حکومت برآمد ہوتا ہے اور غلط انسانی شاکلہ سے غلط نظام حکومت۔
زندگی میں کونیت بشری کا معاملہ امارت بشری سے زیادہ اہم ہے۔ کونیت بشری کی حیثیت بنیاد کی ہے اور امارت بشری کی حیثیت اوپری ڈھانچہ کی۔ ظاہر میں لوگوں کو اگرچہ بنیاد کے مقابلہ میں اوپری ڈھانچہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقت میں شخص ہمیشہ بنیاد کو انتہائی زیادہ اہمیت دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکام کے مقابلہ میں علماء کادرجہ زیادہ ہے اور ان کا ثواب بھی زیادہ۔ آغازِ اسلام کی اس ہدایت نے امت کے لیے آئندہ سرگرمیوں کا رخ متعین کر دیا۔ دورِ اول میں اصحابِ رسول کی ایک جماعت جہاد کے عمل میں مشغول ہوئی۔ اسی کے ساتھ ان کی دوسری جماعت، مثال کے طور پر عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر وغیر ہ، علمی اور دعوتی شعبوں میں اپنے آپ کو وقف کیے رہے۔
صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین میں بھی یہی تقسیم قائم تھی۔ لوگ مختلف علمی میدان، تفسیر، حدیث، فقہ اور ان سے تعلق رکھنے والے دوسرے علمی شعبوں میں مشغول رہے۔ تقریباً ایک ہزار سال تک یہ صورتِ حال قائم رہی۔ یہ لوگ قراء، محدثین، فقہاء علماء، دعاۃ، صوفیاء اور معلمین وغیرہ کی صورت میں یکسوئی کے ساتھ اپنے مخصوص میدان میں سرگرم عمل رہے۔
اسی تقسیم کار کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ عظیم علمی اور دعوتی تاریخ بنی جو آج ملتِ اسلامی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر تمام کے تمام لوگ جہاد و قتال کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے تو یقینی طور پر اسلام کی تاریخ میں ایک خلا پیدا ہو جاتا جو قیامت تک کبھی دوبارہ پر نہ ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues