اورنگ زیب عالم گیر
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱
کی ترقیوں سے بے خبر تھے بلکہ وہ اس سے پہلے کی ان ترقیوں سے بھی ناواقف تھے جو مسلمان اسپین کے دور حکومت (۱۴۹۲ء - حکومت(۱۴۹۲۔ ۷۱۱) میں کر چکے تھے۔
اسپین میں جب مسلم سلطنت کو زوال ہوا تو وہاں کے علماء اور سائنس داں اسپین سے نکل کر باہر جانے لگے۔ اس وقت ترکی میں طاقت ور مسلم خلافت (۱۹۲۴ء - ۱۳۰۰) قائم تھی۔ اس زمانہ میں غالباً کچھ مسلم سائنس داں بھاگ کر ترکی گئے۔ مگر وہاں کے دربار میں انھیں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ مسلم اسپین کے زوال کے بعد ۱۵۲۶ میں ہندوستان میں مغل سلطنت قائم ہوئی۔ مگر مغل حکمرانوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ قدیم مسلم اسپین کے کچھ سائنس دانوں کو بلائیں اور علمی ترقی کا وہ کام ہندوستان میں جاری کریں جس کا سلسلہ اسپین میں منقطع ہو گیا تھا۔
تحقیق وریسرچ کا یہ کام صرف حکومت کی سرپرستی کے تحت ہو سکتا تھا۔ چنانچہ ان سائنس دانوں کو جب مسلم دنیا میں مواقع نہیں ملے تو وہ مغربی یورپ میں داخل ہونے لگے۔ وہاں انھیں بادشاہوں کی طرف سے سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہی سبب ہے جس کی بنا پر اسپین کے عمل کی تکمیل مسلم دنیا میں نہ ہو سکی، وہ یورپ کی سرزمین پر ہوئی۔
اور نگ زیب بھی اپنی بے خبری اور سیاست سے غیر معمولی دل چسپی کی بنا پر اپنے زمانہ میں اس رخ پر کوئی اقدام نہ کر سکا۔ آخری مرحلہ میں سائنس کی ترقی کا کریڈٹ تمام تر یورپ کے حصہ میں چلا گیا۔ جدید دور کے تمام ابتدائی اسباب اور اس کے ابتدائی مظاہر اور نگ زیب کے زمانہ میں پیدا ہو چکے تھے۔ روایتی گھڑی کے مقابلہ میں اسپرنگ دار (spring - driven) گھڑی کا ابتدائی ماڈل ۱۵۰۰ میں جرمنی میں تیار کرلیا گیا تھا۔ جغرافیہ اور بحریات میں ترقی کی بنا پر پرتگال کا واسکوڈی گاما، ۱۴۹۹ میں کالی کٹ کے ساحل پر اتر چکا تھا۔ اور اس طرح اس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری راستہ کھول دیا تھا۔ ۱۵۱۰ میں پرتگال نے گوا پر قبضہ کر لیا تھا۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ۱۶۰۰ میں بنی اور فرنچ ایسٹ انڈیا کمپنی ۱۶۶۴ میں قائم ہوئی۔ مگر اور نگ زیب اپنی سیاسی مشغولیت کی بنا پر ان واقعات سے بے خبر رہا۔ حالانکہ یہ واقعات بتا رہے تھے کہ آئندہ نہ صرف برصغیر ہند بلکہ سارے عالم اسلام کے لیے جو مسئلہ پیدا ہونے والا ہے وہ اپنی نوعیت میں خارجی ہے نہ کہ داخلی۔
(9/392)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues