اورنگ زیب عالم گیر
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۰
اورنگ زیب عالم گیر
میرا خیال ہے کہ یہ روایت سب سے پہلے قابل لحاظ درجہ میں اورنگ زیب عالم گیر (۱۷۰۷-۱۶۱۸) کے زمانہ میں ٹوٹی۔ اورنگ زیب اگرچہ شاہی خاندان میں پیدا ہوا۔ مگر وہ پورے معنوں میں ایک عالم تھا۔ اس کا باپ شاہ جہاں اس کے بجائے دارا شکوہ کو اپنا ولی عہد بنانا چاہتا تھا۔ اس طرح حالات اورنگ زیب کو اس طرف لے جا رہے تھے کہ وہ بادشاہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک عالم کا کردار ادا کرے۔ مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا۔ اس نے ۱۶۵۸میں اپنے باپ شاہ جہاں کو تخت سے معزول کر کے آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اور اپنے بھائی دارا شکوہ کو ۱۶۵۹ میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد تقریباً نصف صدی تک وہ مغل سلطنت کا مالک بنا رہا۔
"تاج" سے محرومی کے باوجود اورنگ زیب کو بہت سے اعلیٰ وسائل حاصل تھے۔ اگر وہ بادشاہ کا رول ادا کرنے کے بجائے عالم کا رول ادا کرنے پر راضی ہو جاتا تو وہ اتنا بڑا کام کر سکتا تھا کہ آئندہ کئی صدیوں تک آنے والے علماء کے لیے وہ مشعل راہ کا کام دیتا۔
اورنگ زیب کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں علم جدید کی بنیادیں رکھی گئیں۔ اس کے اثرات ہندوستان کے سواحل تک پہنچ چکے تھے۔ مگر اورنگ زیب اس سے بے خبررہ کروقتی سیاست میں پڑا رہا۔ شاہ جہاں نے ہندوستان میں تاج محل بنایا تھا۔ اورنگ زیب کے لیے موقع تھا کہ وہ ہندوستان میں علم محل کی تعمیر کرے۔ ملک کا سیاسی ایمپائر دارا شکوہ کے حوالے کر کے وہ ملک میں ایک ایجوکیشنل ایمپائر بنا سکتا تھا۔ اگر اورنگ زیب ایسا کرتا تو وہ اسلام اور ملت اسلام کو اس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچاتا جو اس نے سیاست اور جنگ کے راستہ سے پہنچانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔
اورنگ زیب اگر "دکن " کا سفر کرنے کے بجائے "یورپ" کا سفر کرتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ وہ ایک خلاف زمانہ عمل میں مبتلا ہے۔ وہ شمشیر کی سیاست کے ذریعہ دنیا میں اسلام کو سر بلند کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اب دنیا میں اس دور کا آغاز ہو چکا ہے جو بالآخر یہاں پہنچے گا کہ علم کی سیاست لوگوں کے لیے سربلندی کا ذریعہ بن جائے گی۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اورنگ زیب اور اس زمانہ کے دوسرے علماء نہ صرف یورپ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues