شاہ ولی اللہ دہلوی
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵
پنا یہ تاریخی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ۔ وہ قائم الزمان بننے کے مقام پر تھے مگر وہ عملاً قائم الزمان نہ بن سکے ۔
شاہ ولی اللہ کازمانہ اٹھارویں صدی کا زمانہ ہے۔ اس سے پہلے سترھویں صدی میں یورپ میں اس نئے دور کا بیج پڑ چکا تھا جو بالاخر پوری نوع انسانی کو اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا۔ وہ دور تقلید کو دور سائنس میں تبدیل کر دینے والا تھا۔ پچھلے زمانہ میں (بشمول دور شرک) کائناتی واقعات کی تشریح اعتقادی اصطلاح میں کی جاتی تھی۔ اب تاریخ بشری میں پہلی بار ایک ایسا دور آ رہا تھا جب کہ کائناتی واقعات کی تشریح خالص اسباب مادی کی اصطلاحوں میں کی جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ شاکلہ انسانی تبدیل ہو جائے ۔ مگر شاہ ولی اللہ اپنے قہروی واقعات میں الجھ کر رہ گئے ۔ وہ دور رس بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے جو کہ دراصل قائم الزمان ہونے کا تقاضا تھا۔ قدیم زمانہ میں واقعات عالم کی تشریح اعتقادی اصطلاحوں میں کی جاتی تھی۔ یعنی جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کرنے والا خدا ہے۔ اسلام سے پہلے غلبہ شرک کے زمانہ میں اس اعتقادی تشریح کے لیے کئی خداؤں کے حوالے دیے جاتے تھے۔ اسلام کے بعد غلبہ توحید کا زمانہ آیا تو صرف ایک خدا کی بنیاد پر تمام واقعات عالم کی تشریح کی جانے لگی۔ موجودہ دور پوری معلوم تاریخ میں پہلا دور ہے جب کہ واقعات عالم کو اسباب مادی کی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔
سولھویں صدی عیسوی میں مظاہر فطرت کی باقاعدہ علمی تحقیق کی جانے لگی۔ گلیلیو (۱۶۴۲-۱۵۶۴) نے چاند اور سیاروں اور دوسرے مظاہر فطرت کا مطالعہ کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ فطرت ایسے محکم قوانین کے تحت عمل کرتی ہے جن کو ریاضیاتی صحت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ فطرت کی کتاب سب کی سب ریاضی کی صورت میں لکھی گئی ہے :
The book of nature is written in mathematical form (15/530)
چرچ کی مخالفت کے باوجود یہ طرز فکر بڑھتا رہا۔ سترھویں صدی میں کثیر تعداد میں یورپ میں ایسے اہل علم پیدا ہوئے جو کائناتی واقعات کی مشینی تشریح کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ مثلاً پوپ ، ٹائیکو براہمی، کیپلر وغیرہ۔ یہ پروگرام جس کو عام طور پر مشینی فلسفہ کہا جاتا ہے، وہ سترھویں صدی کا غالب موضوع فکر تھا :
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues