Al-Risala · July 1993 · page 16

شاہ ولی اللہ دہلوی

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶

اٹھارویں صدی میں سر آئزک نیوٹن نے اس فکری عمل کو تکمیل تک پہنچا دیا۔ نیوٹن کی کتاب، جس کا مختصر نام پرنسپیا ہے، شاہ ولی اللہ کی وفات سے ۵۵ سال پہلے ۱۶۸۷ میں لاطینی زبان میں چھپی، اور ۱۷۲۹ میں انگریزی میں شائع ہوئی۔ اسپیس، ٹائم، گریویٹی اور فورس کے موضوعات پر مختلف سائنسی ذہن پہلے سے کام کر رہے تھے۔ مگر اس معاملہ میں کامیابی کا سہرا نیوٹن کے حصہ میں آیا۔ نیوٹن نے اپنی کتاب (پرنسپیا) میں یونیورسل گریویٹیشن کے قانون کو ریاضیاتی معقولیت (mathematical reasoning) کے ذریعہ آخری طور پر ثابت کر دیا۔ (6/888)

شاہ ولی اللہ کے زمانہ میں ایک نئے انقلاب کے تمام آثار ظاہر ہو چکے تھے۔ اس انقلاب کا فکری پہلو اسلام کے لیے بے حد اہمیت رکھتا تھا۔ وہ حقائق کی تقلیدی تشریح کو رد کر رہا تھا۔ اس کے نزدیک صرف وہ تشریح معقول اور مسلم حیثیت رکھتی تھی جو جدید سائنٹفک معیاروں پر کھری ہو۔ مگر شاہ ولی اللہ ان عالمی تبدیلیوں سے یکسر بے خبر رہے۔

شاہ ولی اللہ واقعات کو دہلی کے محدود دائرہ میں دیکھ رہے تھے اور ان کی اصلاح کی سطحی تدبیر میں کمر رہے تھے۔ اگر وہ سفر کرتے اور واقعات کا مطالعہ عالمی حالات کے پس منظر میں کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اصل مسئلہ ایک عالمی طوفان کا ہے نہ کہ اس نام نہاد سلطنت کو بچانے کی لاحاصل کوشش کرنے کا جو اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر حکومت شاہ عالم ازدہلی تاپالم کامصداق بن چکی ہے۔ شاہ ولی اللہ جس مغل سلطنت کو زندہ کرنا چاہتے تھے وہ اتنی دیمک زدہ ہو چکی تھی کہ اس نے زندگی کی طاقت کھودی تھی۔ اس کے باوجود وہ اس سے بڑی بڑی امیدیں قائم کیے ہوئے تھے التفہیمات الالهية میں وہ شاہان وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں بادشاہوں سے کہتا ہوں کہ اے بادشاہو، اس زمانہ میں ملأ اعلیٰ کی مرضی یہ ہے کہ تم لوگ تلواروں کو کھینچ لو، پھر ان کو نیام میں داخل نہ کرو جب تک اللہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان فرق نہ پیدا کر دے اور کافروں اور فاسقوں کے سرکش افراد اپنے کمزوروں سے نہ مل جائیں۔ وہ اپنے لیے کچھ کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اور سبی اللہ کاحکم ہے کہ تم ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page