Al-Risala · July 1993 · page 17

شاہ ولی اللہ دہلوی

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۱۷

واقول للملوك ! ايها الملوك ، المرضى عند الملأ الاعلى فى هذا الزمان ان تسلوا السيوف ثم لا تقعدوها حتى يجعل الله فرقانا بين المسلمين والمشركين۔ وحق يلحق مردة الكفار والفساق بضعفائهم لا يستطيعون لا نُفسهم شيئا ۔ وہو قولہ تعالی : وقاتلوهم حتی لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله للہ(التفہیمات الا لہیہ ، الجزء الاول ، ۱۹۳۶، صفحہ ۱۶ - ۲۱۵) یہ نام نہاد ملوک اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ صرف پالکی میں بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے تھے۔ دہلی کے وزیر امداد الملک غازی الدین نے ۱۷۵۴ میں شاہ ولی اللہ کے ہم عصرجہاں دار شاہ کے لڑکے کو تخت پر بٹھایا اور اس کا لقب عالمگیر ثانی رکھا۔ ۱۷۵۷ میں افغان سردار احمد شاہ ابدالی دہلی آیا اور اس کو شہنشاہ ہند کا خطاب عطا کیا۔ مگر جلد ہی بعد ۱۷۵۹ میں اسی وزیر نے عالم گیر ثانی کو قتل کر دیا جس نے چند سال پہلے اس کو تخت پر بٹھایا تھا۔ ایسی سلطنت کے سامنے جہاد بالسيف کی تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسے مُردہ لاشوں کے سامنے رجز پڑھنا۔

شاہ ولی اللہ کا یہ کارنامہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے گرتی ہوئی مغل سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعہ کابل کے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان بلوایا۔ اس نے ۱۷۶۱ میں پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کو شکست دے کر مغل سلطنت کے دشمن کو کچل دیا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ واقعہ شاہ ولی اللہ کے کارنامہ کے خانہ میں درج کرنے کے بجائے اس قابل نظر آئے گا کہ اس کو ان کی بے بصیرتی کے خانہ میں لکھا جائے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں شاہ ولی اللہ کا زیادہ بڑا کارنامہ یہ ہوتا کہ وہ ابن خلدون (۱۳۰۶ - ۱۳۸۲) کے مقدمہ کے وہ صفحات پڑھتے جس میں ابن خلدون نے بجاطور پر لکھا ہے کہ کسی سلطنت کی بھی اسی طرح عمر ہوتی ہے جس طرح افراد کی عمر ہوتی ہے (ان الدولة لها اعمار طبيعية كما للأشخاص، ۱۰۰) اور یہ کہ جب کوئی سلطنت بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کا اٹھنا ممکن نہیں ہوتا (ان الهرم اذا نزل بالدولة لا يرتفع ، ۲۹۳)

شاہ ولی اللہ اگر اس راز کو جانتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ ان کے کرنے کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ وہ اس دیمک زدہ ستون کو بے فائدہ طور پر سنبھالنے کی کوشش کریں جس کے لیے گرنا خود قدرت کے قانون کے تحت مقدر ہو چکا ہے۔ بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ وہ نئے حالات کو سمجھیں اور پھر سے امت کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page