Al-Risala · July 1993 · page 23

ایک صحیح آواز

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳

موازنہ ٹوٹ جائے تو آپ خیال کر سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا۔ غالباً یہاں کے مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس کے مسلمانوں کا ہوا تھا۔ اس لیے ہم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر کیے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانہ کے علوم کی بنا پر پیدا ہوئے ہیں ان کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔ مگر ان شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں (الجمعية وکللی، دہلی، ۶ فروری، ۱۹۷۰) یہ بلاشبہ ایک صحیح رہنمائی تھی۔ مگر ہندوستانی علماء میں سے کوئی ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس رہنمائی کو لائق توجہ سمجھا ہو۔ اس طرح کی اور بھی بعض انفرادی مثالیں ہیں جب کہ کسی صاحب بصیرت شخص نے علماء کو اس طرف دلائی کہ وہ بے فائدہ سیاست کو چھوڑ کر نتیجہ خیز عمل میں اپنی قوتیں لگائیں۔ مگر ایسے اشخاص نہ راہ سے موثر نہ بن سکی اور علماء کا قافلہ مسلسل اپنی تباہ کن سیاست کی طرف چلتا رہا۔ غالباً اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ آخری صدیوں میں علماء نے تنقید کو ایک مبغوض چیز سمجھ لیا۔ علماء کے حلقہ میں تنقید اتنی غیر اہم تھی کہ وہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے تھے۔ علماء کی اکثریت صرف یہ جانتی تھی کہ ہمارے "اکابر" کا طریقہ یہی تھا۔ مذکورہ قسم کی انفرادی رائیں چونکہ اکابر کے اوپر تنقید کے ہم معنی تھیں، اس لیے پہلے ہی مرحلہ میں وہ قابل رد قرار پا گئیں۔ علماء کے لیے یہ ناقابل فہم تھا کہ وہ اکابر کے طریقہ پر نظرثانی کریں اور اس کو غلط بتا کر اپنے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کریں۔ اس کی ایک مثال سید احمد بریلوی کی تاریخ میں ملتی ہے۔ ان کے ساتھیوں اور مریدوں میں ایک مولانا میر محبوب علی (۱۲۸۰- ۱۲۰۰ھ) تھے۔ ان کو سید احمد بریلوی سے اس وقت اختلاف پیدا ہوا جب انھوں نے پنجاب کے سکھ راجہ کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا۔ سید صاحب نے یہ فیصلہ کشف کی بنیاد پر کیا تھا۔ محبوب علی صاحب نے کہا کہ "اے میرے سید، جہاد کا مدار مشورہ پر ہے (نہ کہ کشف اور ثواب پر)

اس کے بعد سید صاحب کے قافلہ کے لوگ محبوب علی صاحب کے سخت مخالف ہو گئے۔ سید احمد بریلوی نے اس کے جواب میں ان سے کہا " تمہاری اطاعت خخاموشی کے ساتھ سننے کی ہونی چاہیے، ایسی اموشی جیسی اس پہاڑ کی ہے جو میرے سامنے کھڑا ہے۔ " محبوب علی صاحب نے اس کو نہیں مانا اور سید صاحب اساتھ چھوڑ کر اپنے وطن کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ سید صاحب نے کہا : من ذهب من عندی الی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page