ایک صحیح آواز
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴
وطنہ مراجعاً فقد ذھب ایمانہ (جو شخص میرے پاس نے اپنے وطن کی طرف لوٹ جائے گا اس کا ایمان اس سے چلا جائے گا مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، از مولانا شاہ ابو الحسن زید فاروقی صفحہ ۸۶-۸۷ اسلام میں اجتماعی امور کی بنیاد شوریٰ پر رکھی گئی ہے (الشوریٰ (۳۸) شوریٰ صحتِ فیصلہ کی ضمانت ہے۔ مگر صحیح شوریٰ کے لیے تنقید اور اختلافِ رائے کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ موجودہ زمانے کے علماء کے درمیان چونکہ تنقید اور اختلافِ رائے کا ماحول نہیں، اس لیے ان کے یہاں حقیقی شوریٰ کا وجود بھی نہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ جو قوم آباد تھی، وہ شرک کو ماننے والی قوم تھی، شرعی نقطہ نظر سے یہاں علماء کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان مشرکین کے درمیان ایک ایسی تحریک اٹھائیں جس کی بنیاد تردید شرک اور اثبات توحید پر قائم ہو۔ اور یہ کام ہرگز مناظرانہ انداز میں نہ ہو بلکہ موعظت حسنہ کے انداز میں ہو۔ وہ نصح اور امانت کے جذبہ کے تحت اٹھائی گئی ہو۔ لیکن پچھلے تین سو سال میں کوئی تحریک تو درکنار کوئی ایک عالم بھی ایسا نظر نہیں آتا جو اس کام کا واضح شعور رکھتا ہو اور اس کام کی اہمیت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرے۔
یہ کام اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس کو چھوڑنے کے بعد پوری کی پوری قوم اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کام کو چھوڑ کر دوسرا جو کام بھی کیا جائے گا۔ وہ حبط اعمال کا شکار ہوتا رہے گا۔ وہ کبھی مسلمانوں کی عزت اور سر فرازی کا سبب نہیں بن سکتا۔
اور نگ زیب عالم گیر کے زمانہ میں یہ اہل شرک مسلمانوں کے لیے رعیت کی حیثیت رکھتے تھے، ان کے درمیان دعوتِ توحید کا مصلحانہ کام نہایت آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا تھا۔ مگر علماء اس موقع کو استعمال نہ کر سکے۔ انھوں نے مشرک قوم کو شرک کی گمراہی سے نکالنے کے لیے کوئی حقیقی محنت انجام نہیں دی۔ انیسویں صدی کے وسط سے باقاعدہ طور پر انگریزی حکومت کا دور شروع ہوا۔ انگریزوں نے اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان مواز نہ قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے نتیجہ میں اہل اسلام اور اہل شرک کی حیثیت برابر برابر ہو گئی۔ اس دوسرے دور میں بھی دعوتی کام کے مواقع پوری طرح موجود تھے۔ مگر علماء نے اب بھی ان مواقع کو استعمال نہیں کیا۔ اس کے برعکس انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues