دوسری عالمی جنگ کے بعد
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۵
جبکہ یہ دونوں ہی تحریکیں مذکورہ دعوتِ توحید کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مذکورہ دونوں تحریکیں اپنے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں ۔ ایک طرف بھارت کی صورت میں ایک آزاد ملک ظہور میں آیا اور دوسری طرف پاکستان کی صورت میں مسلمانوں کا قومی ہوم لینڈ۔ مگر دونوں ہی ملکوں میں مذکورہ دعوت کے مواقع کم سے کم تر ہو گئے ۔ بھارت میں اس لیے کہ یہاں اہل شرک نے اکثریت کی بنا پر غالب حیثیت حاصل کر لی اور مسلمان مغلوبیت کی حالت میں چلے گئے۔ پاکستان میں اس لیے کہ دو قومی نظریہ کے نتیجہ میں اہل شرک کی حیثیت ایک حریف گروہ کی ہو گئی نہ کہ مدعو گروہ کی۔ یہ بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے جو علماء کی براہ راست رہنمائی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کی واحد تلافی یہ ہے کہ کھلے دل سے غلطی کا اعتراف کیا جائے اور حال کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اب وہ کام شروع کر دیا جائے جو ماضی کے مواقع میں انجام نہ دیا جا سکا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد
علماء کی غیر ضروری سیاسی اور حربی سرگرمیاں تو مغربی قوموں کو زیر نہ کر سکیں۔ تاہم خود مغربی قوموں کی باہمی جنگ جو دوسری عالمی جنگ (۴۵-۱۹۳۹) کہی جاتی ہے۔ اس نے ان قوموں کو فوجی اعتبار سے اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے بیرونی ملکوں پر اپنے سیاسی قبضہ کو باقی رکھنا سخت دشوار ہو گیا۔ چنانچہ انہوں نے بیسویں صدی کے وسط میں ان ملکوں سے اپنا سیاسی قبضہ ہٹالیا۔ اگرچہ ان کا تہذیبی اور اقتصادی غلبہ پھر بھی ان ملکوں پر باقی رہا۔
اس کے نتیجہ میں ایشیا اور افریقہ میں تقریباً پچاس مسلم ملک وجود میں آگئے جو سیاسی اعتبار سے آزاد حیثیت رکھتے تھے۔ یہاں علماء کو وہی کردار ادا کرنا تھا جو اسلام میں ان کے لیے مقرر کر دیا گیا تھا۔ یعنی سیاست کو اہل سیاست کے حوالے کر کے وہ اپنے آپ کو اشاعت علوم، دعوت و تبلیغ اور اصلاح و تعمیر کے کام میں لگائیں۔ مگر دوبارہ انہوں نے یہ کیا کہ غیر ضروری طور پر وہ سیاست کے میدان میں کود پڑے۔
پہلے ان کی سیاست کا عنوان آزادی تھا ۔ اب انہوں نے اپنی سیاست کا عنوان قانون اسلامی کے نفاذ کو بنایا۔ مصر، پاکستان، سوڈان ، شام، الجزائر، انڈونیشیا ، وغیرہ مختلف ملکوں میں علماء
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues