دوسری عالمی جنگ کے بعد
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۷
انما نزل اول ما نزل منه سورة من المفصل - فيها ذكر الجنة والنار- حتى اذا ثاب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام - ولو نزل اول شي لا تشربوا الخمر لقالوا لاندع الخمرة ابداً - ولو نزل لا تزنوا لقالوا لاندع الزنا ابداً قرآن میں پہلے مفصل کی سورتیں اتریں ۔ ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف رجوع ہو گئے تو حلال و حرام کے احکام اترے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔
مسلم ملکوں کے بارہ میں علماء نے یہ فرض کر لیا کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لیے وہ اسلامی قانون چاہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ایک غلط اندازہ تھا۔ موجودہ مسلم نسلوں کی حیثیت ایک قومی مجموعہ کی ہے نہ کہ حقیقۃً ایک دینی گروہ کی۔ حتیٰ کہ ان میں جو لوگ نماز ، روزہ جیسے اعمال کرتے ہیں یا حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں، ان کے بارہ میں بھی یہ اندازہ سراسر غلط ہوگا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کا اقتدار علماء کے ہاتھ میں ہو اور وہ ان کے اوپر شریعت کے قوانین کا نفاذ کریں۔ مسلم ملکوں میں علماء کی خیر حقیقت پسندانہ سیاست نے جو صورت حال پیدا کی ہے۔ اس کا خلاصہ، حضرت عائشہ کی زبان میں یہ ہے کہ علماء لوگوں کے اندر رجوع اور آمادگی پیدا کیے بغیر شراب اور زنا کے احکام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہاں کے عوام ان کو جواب دے رہے ہیں کہ ہم تو تمہارے اس قانون کو کبھی اپنے اوپر نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے پہلے ۱۱ جنوری ۱۸۲۷ء کو سید احمد بریلوی اور ان کے رفقاء نے پشاور کے علاقہ میں اسلامی حکومت قائم کی تھی۔ سید صاحب کو اس میں امیر المومنین منتخب کیا گیا تھا۔ مگر بہت جلد آپس میں اختلاف ہوا۔ حتیٰ کہ مقامی مسلمانوں نے سید صاحب کے مقرر کردہ عاملوں کو قتل کر دیا۔ اس طرح یہ اسلامی حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ معاشرہ کی تیاری کے بغیر اسلامی حکومت قائم کرنے کا یہ ناکام تجربہ بعد والوں کے لیے چشم کشانہ بن سکا۔ وہ آج بھی اسی تجربہ کو دہرانے میں مصروف ہیں جو ڈیڑھ سو سال پہلے اپنا ناممکن العمل ہونا ثابت کر چکا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً پوری مسلم دنیا میں ”اسلامی انقلاب“ کی تحریکیں چلائی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues