Al-Risala · July 1993 · page 28

پیغمبر کی مثال

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۲۸

سکاتیں۔ ان تحریکوں کے قائد علماء اول اسلام پسند مفکرین تھے۔ ایران، پاکستان، مصر، سوڈان، ہشا الجیریا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دوسرے بہت سے مسلم علاقوں میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ یہ لوگ اپنے دور تحریک اور دور اقتدار دونوں میں صرف اسلام کو بدنام کرنے کو سبب بنے۔ یہ کیے صحیح ہوگا کہ حکومت الہیہ، اسلامی نظام اور نفاذ شریعت کے نام پر اس دور میں جو تحریکیں اٹھیں وہ سرو الٹا نتیجہ پیدا کرنے والی (counter-productive) ثابت ہوئی ہیں۔

یہ ایک عبرت ناک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اور میں بہت سے بڑے بڑے دماغوں نے یہ اعلان کیا کہ اسلام موجودہ زمانہ کے انسانی مسائل کا حل ہے۔ مثلاً سوامی ویویکانند( (۱۹۰۲-۱۸۶۳) جارج برنارڈ شا (۱۹۵۰-۱۸۵۶) آرنلڈ ٹوائن بی (۱۹۷۵-۱۸۸۹ وغیرہ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں کسی بھی قابل ذکر عالمی شخصیت کی زبان سے اس قسم کا اعتراف سنائی نہیں دیتا۔

اس کی وجہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی رہنماؤں کی غلط نمائندگی ہے۔ اس سے پہلے عالمی مفکرین کے سامنے اسلام کے دور اول کی تاریخ تھی۔ اس سے متاثر ہو کر وہ اسلام کا شاندار تصور قائم کہ ہوئے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اور رہنماؤں نے اسلام کے نام پر جو بے معنی تحریکیں اٹھائیں وہ د انسانیت کے مصائب میں اضافہ کا سبب بنیں۔ زمانہ حاضر کے ان نام نہاد نمائندگانِ اسلام کے نمونوں کا دیکھ کر لوگ اسلام سے بیزار ہو گئےے۔ ان کا یہ تاثر ختم ہو گیا کہ اسلام موجودہ زمانہ میں انسانی فلاح ک ذریعہ بن سکتا ہے۔

پیغمبر کی مثال

عبد اللہ ابن عباسؓ کی دور کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک روز قریش کے اکابر کعبہ کے پاس جمع ہوئے ۔ انھوں نے باہم مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ اپنا ایک شخص بھیج کر محمد کو بلار تاکہ ان سے بات کرکے معاملات طے کیے جاسکیں۔ پیغام پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آئے۔ گفتگو شروع ہوئی تو قریش کے نمائندہ نے کہا کہ آپ ہماری قوم کے لیے مصیبت بن گئ ہیں۔ آپ نے ہمارے آباء کو گالی دی۔ ہمارے دین پر عیب لگایا۔ ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے اصنام کو گالیاں دیں (لقد شتمت الآباء وعيبت الديد

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page