Al-Risala · January 1993 · page 34

مذہبی ہم آہنگی اور اسلام

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۴

زندگی کے اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو عملیت (pragmatism) کہا جاتا ہے۔ یعنی جہاں نظریاتی تدبیر کام نہ کر رہی ہو وہاں پریکٹیکل تدبیر کا طریقہ اختیار کرنا۔ جہاں لوگ ایک دوسرے سے اعتقادی اتفاق نہ کر سکتے ہوں، وہاں زندگی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کا اس پر راضی ہو جانا کہ ہر ایک اپنے عقیدہ پر باقی رہتے ہوئے یہ کوشش کرے کہ ایک دوسرے کے درمیان عملی ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔

پریکٹیکل تدبیر ـــــــــ ایک عام اور معروف اصول ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذاتی زندگی میں اسے لازماً اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں کہیں نہ کہیں ایسا موقع آجاتا ہے جبکہ وہ نظریاتی معقولیت (theoretical reason) کو نظر انداز کر کے عملی معقولیت (practical reason) کی بنیاد پر لوگوں سے تعلق قائم کرتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ تدبیر کوئی نئی تدبیر نہیں۔ اس کو ماننا لوگوں کے لیے خود اپنے اختیار کردہ طریقہ کی ایک توسیع ہے، نہ کہ الگ سے کوئی نیا طریقہ اختیار کرنا۔

نوٹ : یہ مقالہ انٹر ریلیجس فیڈریشن فار ورلڈ پیس ، نیو یارک کے زیر انتظام نئی دہلی میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس بتاریخ ۱ ۔ ، فروری ۱۹۹۳ میں (انگریزی میں) پیش کرنے کے لیے لکھا گیا ۔ کانفرنس کا موضوع یہ تھا :

Seeking Global Harmony Through Inter-Religious Action

‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues

Printed page