مذہبی ہم آہنگی اور اسلام
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۳
مذہب (established religion) کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ کوئی مذہب جب قدامت کے اس مرحلہ میں پہنچ جائے تو وہ اپنے ماننے والوں کے درمیان ہمیشہ مقدس حیثیت حاصل کر لیتا ہے، اس کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی لانا یکسر نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد کسی مذہب میں تبدیلی کی کوشش ایک نیا مذہب پیدا کر کے اصل مسئلہ میں اضافہ تو کر سکتی ہے، مگر اس طرح کی کوئی کوشش خود اس مذہب کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی متعدد مثالیں ماضی بعید اور ماضی قریب میں موجود ہیں۔ اس تاریخی حقیقت کو سامنے رکھے تو معلوم ہوگا کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی مذکورہ تیسری تجویز ہی واحد تجویز ہے جو قابلِ عمل ہے۔ اس کے سوا کوئی اور تجویز، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی اچھی معلوم ہو، اس کو بالفعل وقوع میں لانا ممکن نہیں۔ ایک مذہبی اسکالر سے اس موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ پچھلے سو سال سے ہم مذاہب کے درمیان ہم آہنگی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ۱۸۹۳ء میں اسی مقصد کے لیے شکاگو میں مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ (World Parliament of Religions) منعقد کی گئی۔ اس کے بعد سے اب تک اس نوعیت کی بے شمار کوششیں کی گئی ہیں۔ مگر اس معاملہ میں ہماری تمام کوششیں سراسر بے نتیجہ ہو گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس راہ میں کچھ ناقابلِ عبور رکاوٹیں (insurmountable obstacles) حائل ہیں۔
میں نے کہا کہ یہ بلا شبہ قابل حصول ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ممکن مقصد کو ناممکن تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی یقیناً ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر اس کو اس طرح حاصل نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں کے مروجہ عقیدہ کو بدل کر انھیں ایک اور عقیدہ پر لانے کی کوشش کی جائے جس کو ایک یا زیادہ اسکالر نے ریسرچ کر کے وضع کیا ہو۔ اس کی واحد قابلِ عمل تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کے مروجہ عقیدہ کو چھیڑے بغیر انھیں اس پر راضی کیا جائے کہ وہ مشترک انسانی ضرورت کے تحت دوسرے مذہب کے لوگوں کا احترام کریں۔ وہ دوسرے مذہب والوں کے ساتھ رواداری (tolerance) کا سلوک کریں۔ وہ فکری اختلاف کے باوجود عملی ہم آہنگی کے طریقہ پر قائم رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues