Al-Risala · July 1993 · page 31

زمانی تبدیلی

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۱

میں ڈال دیا گیا تا کہ ان کے تمام ادھیڑ اور بوڑھی عمر کے لوگ ختم ہو جائیں اور نئی نسل صحرائی حالات میں تربیت پا کر اپنے اندر قابلِ اعتماد سیرت پیدا کرے اور پھر اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی حکومت قائم کر سکے ۔

مذکورہ دونوں واقعات واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ حکومت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ اس کے حق میں ضروری اجتماعی حالات فراہم ہو چکے ہوں ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال یہ بتاتی ہے کہ اگر آبادی میں حقیقی سطح پر موافق فضا نہ بنی ہو تو پیغمبر بھی وہاں اپنی حکومت قائم نہیں کر سکتا ۔ اگر وہ اس قسم کی ضروری فضا کے بغیر حکومت قائم کرے تو قائم ہونے کے جلد ہی بعد اس کا تختہ الٹ دیا جائے گا، اور آخر کار کچھ بھی حاصل نہ ہوگا ۔

حضرت موسیٰ کی مثال بتاتی ہے کہ حکومت کے قیام کے لیے باکردار افراد کی ایک مضبوط ٹیم کا ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر ایسی ٹیم نہ ہو تو خواہ ملک میں سیاسی خلا پایا جائے اور خواہ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے بیک وقت دو پیغمبر موجود ہوں تب بھی وہاں اسلامی حکومت کا قیام ممکن نہیں۔

اس پیغمبرانہ نظیر کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں ساری مسلم دنیا میں ” اسلامی حکومت قائم کرو“ کے نام پر جو ہنگامے جاری کیے گئے، وہ صرف نادانی کی چھلانگ تھے ۔ جس کا آخری نتیجہ صرف یہ ہو سکتا تھا اور یہی ہوا کہ آدمی حادثہ کا شکار ہو کر اسپتال میں پہنچ جائے اور منزل بدستور دور کی دور پڑی رہے۔

زمانی تبدیلی

موجودہ زمانہ کے علماء کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے مغربی قوموں کے غلبہ کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ ایک طاقت ور تہذیب کا یلغار تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سیاسی فتح و شکست اس معاملہ میں محض اضافی ہے ۔ ان قوموں کو بالفرض سیاسی جنگ کے میدان میں شکست ہو جائے تب بھی ان کا غلبہ باقی رہے گا۔ جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پیش آیا۔ تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر تاتاریوں کا غلبہ محض ایک شمشیری غلبہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دوبارہ شمشیر کے میدان میں انہیں شکست دے دی جائے تو عین اسی وقت ان کا غلبہ بھی ختم

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page