Al-Risala · July 1993 · page 30

أیھا المبعوثُ فِينا جِئتَ بالأمرِ المُطاعِ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۰

لے کر آئے ہیں :

أیھا المبعوثُ فِينا جِئتَ بالأمرِ المُطاعِ

اسی نوعیت کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بھی ملتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) کے لیے مقدر تھا کہ اس کو دوبارہ اقتدار دیا جائے جس طرح اس سے پہلے اس کو اقتدار دیا گیا تھا (المائدہ ٤) چنانچہ حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل نے عمالقہ کے خلاف جہاد کیا اور ان کو زیر کر کے شام وفلسطین کے علاقہ میں اپنی حکومت قائم کی جو ایک عرصہ تک باقی رہی۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کا موقع تو انہیں نصف صدی پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ ہی میں حاصل ہو چکا تھا۔ پھر اس کو نصف صدی تک موخر کیوں کیا گیا۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ وہاں کا حکمراں فرعون اور اس کی پوری فوجی طاقت سمندر میں غرق کر دی گئی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لیے مصر میں میدان خالی تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کی راجدھانی منفس واپس آکر وہاں کے خالی تخت پر قبضہ کر کے بیٹھ سکتے تھے۔ اور فرعون اور اس کے لشکر کی معجزاتی ہلاکت کے بعد ان کے حق میں ملک میں مرعوبیت کی جو فضا بنی تھی اس کے تحت یقینی تھا کہ لوگ ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔

مگر حضرت موسیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ وہ مصر کے خالی سیاسی میدان کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا میں چلے گئے۔ وہاں چالیس سال (۱۲۰۰ ۔ ۱۱۶۰ ق م) تک فرمان اور شرق اردن کے درمیان بنی اسرائیل کے لوگ صحرا کی مشقتوں کو جھیلتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے زیادہ عمر کے تمام افراد مر گئے ۔ اور صرف وہ نئی نسل باقی رہی جو صحرائی ماحول میں پرورش پا کر تیار ہوئی تھی۔ اس تاخیر کا واحد راز یہ ہے کہ مصر میں بنی اسرائیل کی جو نسل تھی وہ مخصوص اسباب سے اخلاق سے زوال کا شکار ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اپنے اور ہارون کے سوا کسی اور کے اوپر مجھے کوئی بھروسہ نہیں (المائدہ ۲۵) چنانچہ بنی اسرائیل کی پوری قوم کو "وادی تیہا"

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page