Al-Risala · July 1993 · page 34

شاکلہ، انسانی کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۴

عام فکری طوفان سے متاثر ہوئے بغیر نہ سکے ۔

جدید ذہن کو پیدا کرنے میں لمبی مدت اور سیکڑوں اشخاص کا عمل شامل ہے۔ تاہم علامتی طور پر سر آئزک نیوٹن (۱۶۴۲۔ ۱۷۲۷) کو اس دور کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ نیوٹن نے شمسی نظام کا مطالعہ کیا۔ اس نے اس بات کی تحقیق کی کہ سورج ، چاند اور سیارے کس طرح حرکت کرتے ہیں۔ ان فلکیاتی مظاہر کی تشریح اس نے میتھمیٹکس کے قواعد کے ذریعہ کی۔ اس نے بتایا کہ یہاں ایک قانون تجاذب (Law of gravitation) ہے جس کی پابندی میں یہ اجرام کھلائے بسیط میں حرکت کر رہے ہیں۔ قدیم زمانہ میں سادہ طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ سورج ، چاند کی گردش اور دوسرے تمام واقعات مقدراتِ خداوندی کے تحت پیش آتے ہیں۔ قدیم انسان اس سے نا آشنا تھا کہ اپنے گردو پیش ظہور میں آنے والے ان واقعات کو قانون فطرت (Law of nature) کی مادی اصطلاحوں میں بیان کرے۔

نیوٹن کی تحقیقات کی اشاعت نے پورے انسانی عقیدہ کو متزلزل کر دیا۔ مزید تحقیق کے بعد جب معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کے تمام واقعات فطرت کے ایسے قوانین کے تحت ظاہر ہو رہے ہیں جن کو علم الحساب کی زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے تو قدیم اعتقادیات کی بنیاد بالکل منہدم ہو گئی۔ جدید مفکرین نے اعلان کر دیا کہ واقعات اگر فطرت کے اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطرت اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے :

If events are due to natural causes they are not due to supernatural causes. نیوٹن کے بعد مفکرین کا ایک اور گروہ اٹھا جس نے انسانی ذہن کی نئی تشکیل میں موثر کردار ادا کیا۔ اس گروہ میں نمائندہ شخصیت چارلس ڈارون (۱۸۸۲۔ ۱۸۰۲) کی ہے۔ نیوٹن نے طبعی دنیا (physical world) کو قانون فطرت کے تحت حرکت کرتا ہوا دکھایا تھا۔ ڈارون نے بتایا کہ حیاتیاتی دنیا (biological world) بھی اسی طرح قانون فطرت کے تحت سفر کر رہی ہے۔ ابتدائی جرثومہ حیات سے لے کر انسان تک جتنے بھی حیاتیاتی مظاہر اس دنیا میں دکھائی دیتے ہیں وہ سب کے سب معلوم فطری قانون کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page