Al-Risala · July 1993 · page 35

معیارِ قوت میں تبدیلی

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵

ڈارون کے اس نظریہ پر اس کے بعد بے شمار مزید تحقیقات ہوئیں۔ اگرچہ اس کے ابتدائی نظریہ میں بعض تعدیلات کی گئیں۔ مگر بنیادی طور پر حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ تمام جدید علماء کے نزدیک سائنسی مسئلہ قرار پایا۔ اس کے نتیجہ میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ساری دنیا میں یہ ذہن بن گیا کہ انسان کی تخلیق کا خالق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس قانونِ فطرت کا مظہر ہے جس کو عام طور پر ارتقاء (Evolution) کہا جاتا ہے۔

جدید مفکرین کاتیسراگروہ وہ ہے جس کی نمائندگی کا مقام کارل مارکس (۱۸۸۳- ۱۸۱۸) کو حاصل ہوا۔ مارکس نے انسانی تاریخ کے سفر کا ایک مادی فلسفہ پیش کیا جس کو اس نے تاریخ کی علمی تعبیر (Scientific interpretation) کا نام دیا۔ اس نے کہا کہ تاریخ میں خود اس کے اپنے اندرونی قانون کے تحت طبقاتی جدوجہد (Class struggle) جاری رہتی ہے۔ اور یہی طبقاتی جدوجہد تاریخ کے حال اور مستقبل کی صورت گری کرتی ہے۔

قدیم زمانہ کا انسان تاریخ کو تقدیر کا کرشمہ سمجھتا تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ ایک برتر خدا ہے جو تاریخی واقعات کو کسی ایک یا دوسری صورت میں تشکیل دیتا ہے۔ مگر مارکس کے مذکورہ فلسفہ اور اس فلسفہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والے بے شمار لٹریچر نے ساری دنیا کے انسانوں کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر کیا۔ لوگ تاریخ کو ایک غیر خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھنے لگے جب کہ اس سے پہلے وہ اس کو خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔

معیارِ قوت میں تبدیلی

اوپر جو بات کہی گئی وہ قوانینِ فطرت کی دریافت کے فلسفیانہ پہلو سے تعلق رکھتی تھی عملی اعتبار سے اس دریافت نے مغرب کو مزید ایک بہت بڑا فائدہ پہنچایا۔ اس کے ذریعہ اہل مغرب کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ تاریخ میں پہلی بار طاقت کے معیار کو بدل دیں۔ وہ طاقت و قوت کو ایک نیا مفہوم دے دیں جس سے پچھلی قومیں آشنا نہیں ہو سکی تھیں۔

اس کے ذریعہ اہل مغرب نے قدیم روایتی دور کو نئے سائنسی دور میں داخل کر دیا۔ انھوں نے دستکاری کی صنعت کو مشینی صنعت میں تبدیل کر دیا۔ انھوں نے جہاز رانی کو بادبانی کشتی کے دور سے نکال کر دخانی کشتی کے دور میں پہنچا دیا۔ انھوں نے دستی ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر دور مار

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page