دور جدید سے بے خبری
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲
عقل پرست ہوتا ہے۔ وہ بے قید آزادی فکر کا قائل ہے۔ ایک عالم کے الفاظ میں، مغربی انسان کا کلمہ ہے ۔ ___________ لا موجود الا عقل ۔
مگر یہ مغربی تعقل کی نہایت غلط تعبیر ہے۔ مغربی انسان بے قید فکر کو نہیں بلکہ حقیقی فکر کو عقل سمجھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں اعتقادی مسلمات یا بدیہیات کی بنیاد پر استدلال کیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی غور وفکر کا معیار یہ ہے کہ کسی بھی عقیدہ یا نظریہ کوپیشگی مسلمہ کے طور پر نہ مانا جائے، بلکہ واقعات و حقائق کی روشنی میں پرکھ کر اس کے بارہ میں ایک رائے قائم کی جائے۔ مزید یہ کہ یہ تصور عقل ہمارے لیے انتہائی مفید ہے۔ کیوں کہ اسلام کی بنیاد محکم حقائق پر ہے اور دوسرے مذاہب اپنی موجودہ صورت میں مفروضات اور توہمات پر قائم ہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں مذکورہ عقلی تصور کے تحت تمام مذاہب کی مقدس کتابوں کی علمی تحقیق کی جانے لگی۔ اس تحقیق میں مغربی علماء نے جس طرح دوسرے مذاہب کی مقدس کتابوں کی علمی جانچ کی۔ اسی طرح انہوں نے قرآن کی بھی علمی جانچ کی۔
قدیم زمانہ میں موجودہ بائبل کو مسلّمہ طور پر خدا کا کلام مان لیا گیا تھا۔ اس کو علمی تحقیق کے بغیر مقدس کلام کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ اب جدید معیار عقل کے مطابق بائبل کے متن کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد عین علم انسانی کی سطح پر یہ ثابت ہو گیا کہ موجودہ بائبل تاریخی حیثیت سے ایک غیر معتبر کتاب ہے۔ دوسری طرف اس علمی تحقیق نے قرآن کے بارہ میں ثابت کیا کہ اس کو مکمل طور پر تاریخی اعتباريت (historical credibility) حاصل ہے۔
علماء اگر مغربی فکر کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے تو اس کو اپنے لیے عین مفید سمجھ کر اس کا استقبال کرتے ۔ مگر سطحی معلومات کی بنا پر وہ اس کے مخالف بن گئے اور اس کا مذاق اڑانے لگے ۔ چند مثالیں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نزدیک اسلام ایک مکمل سیاسی انقلاب کی تحریک ہے۔ اس سلسلہ میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے وہ پر جوش طور پر لکھتے ہیں : آج دنیا آپ کے موذن کو اشہد ان لا الہ الا اللہ کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے کہ رزی پکارنے والا جانتا ہے کہ کیا پکار رہا ہوں، نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues