دور جدید سے بے خبری
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱
راتے کہ یہ قم جو طوفان کی طرح چھاتی چلی جا رہی ہے اور نئے آلات ، نئے وسائل، نئے طریقوں اور نئے علوم و فنون سے کام لے رہی ہے اس کی اتنی قوت اور اتنی ترقی کا راز کیا ہے۔ اس کے گھر میں کس نوعیت کے ادارات قائم ہیں۔ اس کے علوم کس قسم کے ہیں۔ اس کے تمدن کی اساس کن چیزوں پر ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے “ اس قسم کا احساس مدت سے بار بار ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مگر اب تک کوئی بھی قابلِ ذکر عالم ایسا وہیں نکلا جو فی الواقع اس تحقیقی مقصد کے تحت مغربی دنیا کا سفر کرے یا اس خاص مقصد کے لیے مغربی لٹریچر کا گہرا اور موضوعی مطالعہ کرے ۔ موجودہ زمانہ میں سفروں کے بڑھنے کی بنا پر کچھ علماء کو یہ موقع ملا کہ وہ یورپ اور امریکہ کے شہروں میں جائیں۔ مگر اس جانے کا کوئی بھی تعلق مذکورہ تحقیقی مقصد سے نہیں ہے۔ یہ تمام لوگ جو بظاہر یورپ یا امریکہ جاتے ہیں وہ حقیقتاً یورپ یا امریکہ نہیں جاتے بلکہ یورپ اور امریکہ کے کچھ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں۔ ان جانے والوں کا مغربی دنیا سے کوئی حقیقی ربط و قائم نہیں ہوتا اور نہ وہ وہاں کے اصل حالات کی تحقیق کے لیے کوئی کوشش اور جدوجہدکرتے۔ یہاں دو کتابوں کی مثال لیجئے ۔ ایک سید قطب کی کتاب : امریکا التی رایت (امریکہ جس کو میں نے دیکھا) اور دوسری کتاب مولانا ابو الحسن علی ندوی کے سفرِ مغرب کی مفصل رو داد جو ” دو مہینے امریکہ میں “ کے نام سے چھپی ہے۔ ان دونوں کتابوں کا کوئی تعلق امریکی زندگی کے گہرے مطالعہ سے نہیں۔ مثال کے طور پر ” دو مہینے امریکہ میں “ کو ایک شخص پڑھتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر پاتا ہے کہ صاحب سفر کے دو مہینے امریکہ میں گزر جاتے ہیں مگر اس لمبی مدت میں اس کی کسی اصل امریکی سے ملاقات تک نہیں ہوتی۔ نہ امریکی نظریہ حیات کو سمجھنے کے لیے نہ وہاں کے کسی ادارہ کا گہرا مطالعہ کرتا۔ ان کتابوں کو پڑھ کر کوئی شخص مغرب کے بارہ میں سطحی قسم کا کچھ منفی تاثر تو ضرور لے سکتا ہے۔ مگر ان کو پڑھنے والا یہ نہیں جان سکتا کہ امریکہ کی قوت کا راز کیا ہے۔ اور اس کا وہ فکری اثاثہ کیا ہے جس کے اوپر اس کے نظریاتی ڈھانچہ کی تشکیل ہوئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے علماء مغربی افکار کو سرے سے جانتے ہی نہیں ۔ ناقص معلومات کی بنا پر ہمارے علماء کے ذہن میں مغربی انسان کی اسی طرح غلط تصویر بن گئی ہے جس طرح قدیم مستشرقین کے ذہن میں اسلام کی بالکل غلط تصویر بن گئی تھی ۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مغربی انسان
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues