سطحی رائے
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۴
کے حق میں ایک عظیم امکان سمجھتے ۔ مگر اس فرق کی حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے وہ اس کو استعمال نہ کر سکے۔
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی ایک کتاب " تنقیحات" ہے۔ اس میں مصنف کے وہ مضامین جمع کیے گئے ہیں جو انھوں نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم پر لکھے تھے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مغربی تہذیب سراسر باطل تہذیب ہے ۔ دہریت، الحاد، لاد مذہبیت اور مادہ پرستی نے اس کو پیدا کیا ہے۔ مذہب کے خلاف عقل و حکمت کی لڑائی نے اس تہذیب کو جنم دیا ہے (صفحہ ۹) اسلام کے اصول تمدن و تہذیب مغربی تہذیب و تمدن کے اصول سے یکسر مختلف ہیں (صفحہ ۲۵) وہ تخم خبیث جو مغرب کی نشأہ ثانیہ کے زمانہ میں بویا گیا تھا، چند صدیوں کے اندر تمدن و تہذیب کا ایک عظیم الشان شجر خبیث بن کر اٹھا ہے جس کے پھل میٹھے مگر زہر آلود ہیں۔ جس کے پھول خوش نما مگر خار دار ہیں۔ جس کی شاخیں بہار کا منظر پیش کرتی ہیں مگر وہ ایسی زہریلی ا اگل رہی ہو جو نظر نہیں آتی اور اندر ہی اندر نوع بشری کے خون کو موم کی جارہی ہیں (صفحہ ۲۸ - ۲۹)
اس قسم کے مضامین صرف جدید تہذیب سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ کے علماء کے لیے یہ تہذیب صرف نفرت و حقارت کا موضوع بن گئی۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے مثبت امکانات کو دریافت کرنے سے قاصر رہے ۔ اور اسی لیے وہ اس کو اپنی حق میں استعمال بھی نہ کر سکے۔
سطحی رائے
انیسویں صدی کے آغاز میں شاہ عبد العزیز دہلوی نے اعلان کیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ۵۰۰ علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ مسلمانوں پر فرض ہو گیا ہے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد بالسيف کریں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی جہاد بالسيف کی باتیں بدستور جاری ہیں ۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ایک سفر کے دوران حمص گئے۔ اس کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ اپنے خود نوشت سوانح عمری میں لکھتے ہیں :
" حمص، جو سیف اللہ خالد بن ولید کی آرام گاہ ہے، وہاں مرکز اخوان المسلمین میں ۲۹ جولائی ۱۹۵۱ کو میری ایک ولولہ انگیز تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ شام و حمص کے رہنے والو، عالم اسلام کو اب
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues