سطحی رائے
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵
پھر ایک سیف اللہ کی ضرورت ہے۔ کیا آپ عالم اسلام کو اس کی کھوئی ہوئی تلوار مستعار دے سکتے ہیں “ صفحہ ۳۹۰ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم رہنما کس طرح دور حاضر کی اصل حقیقت سے بے خبر ہے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ میں پیش آنے والے مسئلہ کو سادہ طور پر صرف سیاسی یا حربی مسئلہ سمجھا۔ حالاں کہ وہ دراصل دور انسانی میں تبدیلی کا مسئلہ تھا۔ اپنی اس بے خبری کی بنا پر وہ اپنی جدوجہد میں اس کی رعایت نہ کر سکے اور نتیجہ ان کی ساری قربانیاں لاحاصل ہو کر رہ گئیں۔
اہل مغرب کے کئی سو سالہ عمل نے دنیا میں ایک نیا دور پیدا کیا تھا۔ ان سے مقابلہ کرنے کے لیے اس کو جاننا ضروری تھا۔ اس نئے دور کے دو خاص پہلو تھے۔ ایک، ،شاکلۂ انسانی میں تبدیلی۔ دوسرے، معیار قوت کا بدل جانا۔ آئندہ صفحات میں ان دونوں پہلوؤں کی مختصر وضاحت کی جائے گی۔ علماءء کی دور جدید سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسا لٹریچر تیار نہ کر سکے جو جدید ذہن کو مطمئن کرنے والا ہو۔ شاہ ولی اللہ سے لے کر سید قطب تک، میرے علم کے مطابق ،مسلم علماء کو ئی ایک کتاب بھی ایسی تیار نہ کر سکے جو آج کے مطلوبہ معیار پر پوری اترتی ہو۔ ان سب پر البرٹ ہورانی کا یہ تبصرہ صادق آتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بیشتر اسلامی تحریریں عصری فکر کی ہم سطح نہیں ہیں : Most of the writings of Islam by Muslims “is not on the level of current thought.” (Albert Hourani)
دور جدید کے علماء کاجو مطبوعہ ریکارڈ ہمارے سامنے ہے، اس کی روشنی میں یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ عقلی بیان (reasoned statement) کیا ہے۔ اس سلسلہ میں روایتی علماء کاتوذکرہی نہیں، کیوں کہ وہ اس معاملہ کی الف ب بھی نہیں جانتے۔ خود وہ علما جو اپنے معتقدین کے درمیان ”مجمع البحرین“ سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اس سے ناواقف نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۃ الحجرات کی تفسیر کے تحت ”مسلمانوں کی باہمی جنگ“ کے مسئلہ پر کئی صفحہ کا حاشیہ لکھا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ ظالم مسلم حکومت کے خلاف خروج کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اس بارہ میں فقہاء اسلام کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues