ایک مغربی حوالہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۷
حکیم حمید) وانی للباطل ان يدخل على هذا الكتاب، وهو صاد رمن الله الحق۔ يَصْدَعُ بالحَقِ ويَتصَلُ بالحقِ الذى تقوم عليه السماوات والأرض ۔ واني يأتيه الباطل وهو عن بين محفوظ با مر الله ۔ (فی ظلال القرآن (۳۱۲۶/۵)
یہ تفسیر محض ایک ادبی تفسیر ہے۔ اس کا علمی یا عقلی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں۔ سورہ الاعراف میں اللہ تعالی نے موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ نقل فرمایا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے جواب میں فرعون اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے تقریر کرتا ہے اور ان کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے جو بظاہر موسیٰ کے خطاب سے متاثر ہورہے تھے۔ اس تقریر میں فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ملک مصر سے نکال دیں دیں(یریدأن یخر جکم من ارضکم) اس کی تشریح سید قطب نے ان الفاظ میں کی ہے :
إنهم يُمزحون بالنتيجة الهائلة التى وہ اس خوف ناک نتیجہ کو واضح کرتے ہیں جو اس تتفرق من إعلان تلك الحقيقة ۔ إنها حقیقت کے اعلان سے ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ کہ الخروج من الارض ۔ انماذ ماب یہ سرزمین مصر سے نکلنا ہے۔ یہ اقتدار کا خاتمہ السلطان - إنها إبطال شرعية الحكم۔ یہ ہماری حکمرانی کو ناجائز ٹھہراتا ہے۔ یا یہ ، أو محاولة قلب نظام الحكم، بالتعبير دور جدید کی تعبیر کے مطابق ، نظام حکومت کو العصری) الحدیث (۱۳۳۸/۲) بدلنے کی کوشش ہے۔
آیت کی یہ تشریح سراسر غیر علمی اور غیر عقلی ہے۔ کیوں کہ قرآن میں جب موسی اور فرعون دونوں کا کلام موجود ہے تو موسیٰ کی دعوت کو موسیٰ کے کلام سے معلوم کیا جائے گانہ کہ فرعون کے کلام سے۔ فرعون کی تقریر سے موسیٰ کا مقصد اخذ کرنا ایسا ہی ہے جیسے سید قطب کی تحریک کے مقصد کو جمال عبد الناصر کے بیان سے اخذ کیا جائے۔
ایک مغربی حوالہ
ملائز روتھوین (پیدائش ۱۹۴۲) ایک انگریزی جرنلسٹ ہیں۔ انھوں نے عرب ملکوں کا سفر کیا ہے اور عربی زبان سیکھی ہے۔ مسلم مصنفین کا بھی انھوں نے مطالعہ کیا ہے۔ جدید دنیا میں اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues