Al-Risala · July 1993 · page 46

سطحی رائے

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۶

اس ابتدائی بیان کے فورا بعد لکھتے ہیں: ”جمہور فقہاءء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو، وہ خواہ عادل ہو یا ظالم ، اور اس کی امارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الا یہ کہ وہ کفر صریح کا ارتکاب کرے۔ ۔۔ اس پر امام نووی اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ “ (تفہیم القرآن ۷۹/۵-۸۰)

یہ دونوں پیراگراف ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیوں کہ جب ایک معاملہ میں جمہور فقہاء کی ایک رائے ہو، حتیٰ کہ اس پر علماء اور فقہاء کا اجماع ہو چکا ہو تو اس کے بارہ میں یہ کہنا بالکل بے معنی ہے کہ اس مسئلہ میں فقہا کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔

”الجہاد فی الاسلام “ مولانا ابو الا علی مودودی کی معرکتہ الآرا کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کے دیباچہ میں مولانا موصوف لکھتے ہیں : ”دور جدید میں یورپ نے اپنی سیاسی اغراض کے لیے اسلام پر جو بہتان تراشے ہیں ، ان میں سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے اور اپنے پیروؤں کو خوں ریزی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس بہتان کی اگر کچھ حقیقت ہوتی تو قدرتی طور پر اسے اس وقت پیش ہونا چاہیے تھا جب پیروان اسلام کی شمشیر خارشگاف نے کرۂ زمین میں ایک تہلکہ برپا کر رکھا تھا اور فی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خوں ریز تعلیم کا نتیجہ ہوں ۔ “ (الجہاد فی الاسلام ، دہلی ۱۹۸۴ء، صفحه ۱۵)

اس عبارت کا آخری حصہ اس کے پہلے حصہ کی تردید ہے۔ آخری حصہ میں مصنف خود یہ بات مان رہے ہیں کہ مسلمان اپنی شمشیر خارشگاف لے کر اقوام عالم پر ٹوٹ پڑے ۔ پھر یہی تو وہ بات ہے جس کوعلماء یورپ کہتے ہیں۔ ایسی حالت میں اس کو بہتان کس طرح قرار دیا جائے گا۔ سید قطب کی تفسیر قرآن بہت مشہور ہے جو چھ جلدوں میں قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر اس کے چار ہزار سے زیادہ صفحات ہیں۔ مگر پوری تفسیر غیر علمی انداز میں ہے۔ اس میں انشاء کا حسن تو یقیناً ہے مگر حقیقی علمی استدلال سے وہ تقریباً خالی ہے۔

مثال کے طور پر وہ سورہ فصلت کی آیت کی تشریح اس طرح کرتے ہیں :

(وانه لكتاب عزيز لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه ، تنزيل من

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page