Al-Risala · July 1993 · page 49

حجۃ اللہ البالغہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۴۹

قدیم خیال یہ تھا کہ شریعت کے احکام مصالح پر مبنی نہیں ہوتے۔ یہ گویا آقا کی طرف سے اپنے بندے کے لیے حکم ہے اور اس کی اطاعت یا عصیان پر جزاوسزا کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مصنف نے قرآن وحدیث کی بہت سی مثالیں دے کر بتایا ہے کہ یہ خیال صحیح نہیں۔ کیوں کہ خود شارع نے اپنے متعدد احکام میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ مصالح پر مبنی ہیں۔ مثلاً ولكم في القصاص حياة يا اولى الالباب (البقرہ (۱۷۹) یا صدقہ کے بارہ میں یہ حدیث کہ تؤخذ من اغنيائهم فترد على فقرائهم۔ اسی طرح انھوں نے صحابہ و تابعین کے کچھ اقوال جمع کیے ہیں جن میں مصالح احکام کا تذکرہ ہے بعد کے زمانہ میں علماء کے یہاں بھی جزئی طور پر اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً الغزالی، الخطابی، ابن عبد السلام وغيره (۳-۶)

تاہم حجۃ اللہ البالغہ کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ کیوں کہ یہ کتاب مکمل طور پر اسرار شریعت ہی کے موضوع پر ہے۔ مصنف کے بیان کے مطابق ، ان کو بطریق کشف اس کا اشارہ ملا۔ پھر اللہ نے ان پر الہام کیا (ثم ألھمنی ربی) کہ وہ اس قسم کی ایک کتاب لکھیں۔ حتی کہ خواب میں حضرات حسنین نے ان کو ایک قلم دیا اور کہا کہ : ھذاقلم جدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ۔ اس قسم کی چیزیں بتاتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں :

إن الشريعة المصطفوية اشرفت شریعت محمدی کے لیے اس زمانہ میں وہ وقت في هذا الزمان على ان تُبرز في قُنسِ آگیا کہ وہ دلیل و برہان کے مکمل پیرایہ کے ساتھ سابغة من البرهان (صفحہ ۳) جلوہ افروز ہو۔

علماء ، خاص طور پر ہندوستانی علماء ، اس کتاب کو ایک معرکہ الآراء کتاب سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس میں موجودہ دور عقلیت کے لیے تشفی کا وافر سامان موجود ہے۔ حتی کہ ان کا خیال ہے کہ کسی مذہب کی عقلی تائید اور اس کی حکیمانہ توجیہہ کے موضوع پر آج تک اس پایہ کی کتاب نہیں لکھی گئی (۲۱۶) نواب صدیق حسن خاں (۱۸۹۰-۱۸۲۲) نے لکھا ہے کہ اسرار احکام کے موضوع پر بارہ سو سال کے درمیان عرب و عجم کے کسی عالم کی ایسی کوئی کتاب موجود نہ تھی (مثل آں دریں دوازده صد سال ہجری بیچ یکے از علماء عرب و عجم تصنیفے موجود نیامده)

میرے پاس حجۃ اللہ البالغہ کا وہ نسخہ ہے جو قاہرہ (دار التراث) سے ۱۲۵۵ھ میں چھپا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page