Al-Risala · July 1993 · page 50

حجۃ اللہ البالغہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۰

اس کا جزءء اول ۱۹۸ صفحہ پر مشتمل ہے اور جز ثانی ۲۱۵ صفحہ پر۔ زیر نظر مقالہ کی ترتیب کے دوران میں نے اس کتاب کو تقریبا مکمل دیکھا۔ بعض حصے کئی کئی بار پڑھے۔ مگر میں بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ساری کتاب میں کوئی ایک بھی ایسا بیان نہیں لاجس کو جدید سائنٹفک معیار کے مطابق ، عقلی دلیل کا درجہ دیا جا سکتا ہو۔

کتاب کانام(حجۃ اللہ البالغہ) جو قرآن کی ایک آیت سے ماخوذ ہے ، وہ بلاشبہ نہایت اعلیٰ ہے۔ مگر اصل کتاب حجت بالغہ کے انداز میں نہیں ، بلکہ صرف تقلیدی انداز میں شریعت اسلامی کی تشریح کرتی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب بنیادی طور پر کتب فقہ کی ترتیب پر قائم کی گئی ہے۔ یہ ترتیب بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہ ولی اللہ قدیم تقلیدی ڈھانچے سے باہر نہ نکل سکے۔ کیوں کہ ابواب فقہ دراصل ابواب احکام ہیں نہ کہ ابواب اسرار ۔ کتاب کے مباحث عام طور پر 'اعلم' کے لفظ سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ بھی تقلیدی مزاج کا ثبوت ہے۔ یہ اس دور کا انداز کلام ہے جب کہ آدمی مقام عالم سے بولتا تھا۔ جدید انداز کلام مقام علم سے بولنے کا ہے۔ مگر شاہ ولی اللہ اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اسی طرح کتاب میں جگہ جگہ ثبیت لکھا گیا ہے۔ یہ بھی ایک غیر علمی اسلوب ہے جو صرف اعتقادی کتابوں کے لیے موزوں ہے۔ علمی اعتبار سے اصل موضوع بحث یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ہمارے نبی تھے۔ اصل موضوع بحث یہ ہے کہ کیا وہ خدا کے نبی تھے۔ اس کتاب میں مثرہ سے لے کر سیاست مدن تک ، ہر چیز پر کلام کیا گیا ہے ، مگر سب کا سب تقلیدی اور اعتقادی اسلوب میں ہے نہ کہ حقیقۃً علمی اسلوب میں۔

مثال کے طور پر نیت اور عبادت کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں : اعلم ان النیۃ روح والعبادة جسد ولا حياة للجسد بدون الروح (الجزء الثاني ۸۳) یعنی جان لو کہ نیت روح ہے اور عبادت جسم ہے۔ اور روح کے بغیر جسم کی کوئی زندگی نہیں۔

اسرار الصلاۃ کے تحت لکھتے ہیں : أحسن الصلاة ما كان جامعا بين الاوضاع الثلاث مترقيا من الادنى إلى الاعلالي يحصل الترقي في استشعار الخضوع والتذلل (الجزء الاول، ۱۴ یعنی بہترین نماز وہ ہے جس میں تینوں وضع جمع ہو جائے۔ جس میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہو (قیام پھر رکوع پھر سجدہ) تاکہ خضوع اور تذلل کو محسوس کرنے کی طرف ترقی حاصل ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page