حجۃ اللہ البالغہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۲
اب اس کی روشنی میں اصل کتاب کو دیکھیے ۔ مولانا موصوف کی اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مسلمان قیادة الامم (صفحہ ۳۷) کے منصب پر سرفراز کیے گئے ہیں۔ کتاب کے صدر نگار ڈاکٹر محمد یوسف موسی نے اس کے لیے قیادت الانسانیة (۱۳) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صاحب مقدمہ سید قطب کے نزدیک ، اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کو قیادت عالم کی بازیابی (رد القيادة العالمية ، ۲۲) پر ابھارنا ہے۔
اگر یہ کتاب موضوعی اصول پر لکھی گئی ہے تو مصنف کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ وہ قرآن وحدیث کی واضح نص سے اپنے اس دعوے کو ثابت کریں کہ مسلمان کا منصب یہ ہے کہ وہ دنیا کا قائد اور اقوام عالم کا امام بنے ۔ مگر ۲۲۶ صفحات کی اس کتاب میں کہیں بھی قرآن وحدیث کے دلائل سے یہ ثابت نہیں کیا گیا ہے کہ مسلمان کا منصب سارے عالم کی قیادت وامامت ہے۔ ساری کتاب میں اس نوعیت کی صرف ایک دلیل دی گئی ہے ۔ اور وہ اقبال کا شعر ہے جو انھوں نے ابلیس کی مفروضہ مجلس شوری کی بنیاد پر کہا ہے۔ مصنف نے کتاب کے صفحہ ۲۸۵ سے ۲۸۷ تک اقبال کی اس تخیلاتی نظم کا ترجمہ دیا ہے۔ اس نظم میں اقبال نے ابلیس کی زبان سے یہ شعر نظم کیا تھا :
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات مگر اصل موضوع کی نسبت سے اقبال کا یہ حوالہ سراسر غیر علمی ہے۔ اصل بات ثابت کرنے کے لیے مصنف کو یا تو ایسی کوئی آیت یا حدیث پیش کرنی چاہیے جس میں عبارت النص کی سطح پر ان کا مذکورہ نقطہ نظر ثابت ہوتا ہو۔ یا پھر وہ یہ ثابت کریں کہ شریعت کی منشا کو جاننے کا ماخذ صرف اللہ اور رسول کا کلام نہیں۔ بلکہ اس کا ایک تیسرا ماخذ بھی ہے ، اور وہ ابلیس کا کلام ہے۔ اس طرح کی کتابوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ علمی اور موضوعی کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں ، یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے علماء نہ صرف یہ کہ وہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر مطلوبہ لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر لٹریچر تیار کرنے کا مطلب کیا ہے۔ استدلال کا معیار اصول استدلال کے سلسلہ میں مشہور غرناطی عالم الشاطبی نے ایک بہت بنیادی بات کہی ہے۔ وہ اپنی کتاب الموافقات فی اصول الاحکام میں علم الجدل کے قواعد بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی دعویٰ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues