Al-Risala · July 1993 · page 51

حجۃ اللہ البالغہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۱

اسرار الحج کے تحت لکھتے ہیں : ربما يشتاق الانسان الى ربه اشد شوق فیحتاج الى شيئ يقتضى به شوقه فلا یجدہ الا الحج (الجزء الاول ، ۷۵ - ۷۶) یعنی کبھی انسان کے اندر اپنے رب کے لیے شدید شوق پیدا ہوتا ہے۔ پس وہ ایک ایسی چیز کا محتاج ہوتا ہے جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اس وقت وہ حج کے سوا کوئی اور چیز نہیں پاتا جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اسی قسم کی تشریحات پوری کتاب میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مگر اس قسم کی باتیں شریعت کی واعظانہ تفہیم ہیں۔ وہ کسی بھی درجہ میں شریعت کی علمی اور عقلی وضاحت نہیں۔ جو لوگ اس کو عقلی وضاحت سمجھیں ان کے بارہ میں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ”عقلی وضاحت “کا مطلب نہیں جانتے۔ حجۃ اللہ البالغہ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس کتاب کے بارہ میں میری رائے اور دوسرے علماء کی رائے اتنی زیادہ مختلف کیوں ہے۔ آخر کار میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے علماء اس کتاب کو قدیم کے معیار پر دیکھتے ہیں اور میں اس کو جدید کے معیار پر دیکھ رہا ہوں۔ علماء کے پاس ایک ہی معلوم معیار ہے اور وہ اسلامی کتب خانہ کی قدیم کتابوں کا ہے۔ اس معیار پر دیکھنے میں حجۃ اللہ البالغہ انھیں ایک منفرد کتاب معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اعلان کر دیتے ہیں کہ وہ ایک معرکہ الآراء قسم کی عقلی کتاب ہے۔ مگر میں اس کو جدید معیار تعقل پر جانچتا ہوں تو مجھ کو نظر آتا ہے کہ وہ سرے سے کوئی عقلی کتاب ہی نہیں۔

اس کتاب کے مداح اگر یہ کہیں کہ قدیم ذخیرہ کتب کے مقابلہ میں وہ ایک ممتاز کتاب ہے تو مجھے ان سے کوئی اختلاف نہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ اس کتاب کو عقلی معیار استدلال کا اعلیٰ نمونہ بتائیں تو میری تنقید باقی رہے گی۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب کا عقلی معیار استدلال سے کوئی تعلق نہیں۔ غیر علمی انداز مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ما ذا خسر العالم بانحطاط المسلمین پر مصری عالم سید قطب کا مقدمہ شامل کیا گیا ہے۔ سید قطب نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان کے سلسلہ میں مصنف نے محض وجدانی قسم کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ یہ کتاب موضوعی حقائق کو اپنا ذریعہ استدلال بناتی ہے (بل يتخذ الحقائق الموضوعية أداته ، صفحه (۱۸)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page