Al-Risala · July 1993 · page 54

حجۃ اللہ البالغہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۴

یہ اس اکمل البشر کی سیرت کا ذکر ہے جس نے خود اپنی نسبت فرمایا کہ مجھ کو جو جسمانی قوت عطاہوئی ہے وہ اہل جنت میں سے چالیس مردوں کے برابر ہے جن میں سے ایک مرد کی قوت سو کے برابر ہوگی۔ گویا اس حساب سے دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر قوت حضور کو عطا فرمائی گئی تھی۔ اس حساب سے اگر فرض کیجئے چار ہزار بیویاں آپ کے نکاح میں ہوتیں تو آپ کی قوت کے اعتبار سے اس درجہ میں شمار کیا جاسکتا تھا جیسے ایک مرد ایک عورت سے نکاح کرلے۔ لیکن اللہ اکبر، اس شدید ریاضت اور ضبط نفس کا کیا ٹھکانا ہے کہ ترپن سال کی عمر زہد کی حالت میں گزار دی۔ پھر حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ سے عقد کیا۔ ان کے سوا آٹھ بیوائیں آپ کے نکاح میں آئیں۔ وفات کے بعد نوموجود تھیں۔ دنیا کا سب سے بڑا انسان جو اپنے فطری قوی کے لحاظ سے کم از کم چار ہزار بیویوں کا مستحق ہو، کیا نو کا عدد دیکھ کر کوئی انصاف پسند اس پر کثرت ازدواج کا الزام لگا سکتا ہے (صفحہ ۵۵۰)

مذکورہ اعتراض کا یہ جواب مخالفین کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ اس جواب کی بنیاد اس عقیدہ پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر طاقت حاصل تھی۔ مگر مجیب اور اس کے مخاطب کے درمیان یہ امر متفق علیہ نہیں۔ اس لیے مخاطب کی نسبت سے وہ عقلی دلیل بھی نہیں بن سکتا۔

۲۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ" میں " مبحث فی الجہاد" کے عنوان سے ۹ صفحات کا مفصل باب ہے۔ اس باب کا آغاز اس جملہ سے ہوتا ہے ــــــــ جان لو کہ سب سے زیادہ کامل شرع اور سب سے زیادہ کامل قانون وہ شریعت ہے جس میں جہاد کا حکم دیا جائے (اعلم أن اتم الشرائع واكمل النواميس هو الشرع الذي يؤمر فيه بالجهاد) الجزء الثانی ، صفحہ ۱۷۰ جہاد (بمعنی قتال) کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ صاحب کتاب یہ بتاتے ہیں کہ ایسا قتال انسانیت کے حق میں رحمت ہے۔ اہل فساد جب دلیل و حجت سے نہ مانیں تو ان کے خلاف تشدد کرنا پڑتا ہے تاکہ ان کے ظلم و شر سے انسانوں کو نجات دے دی جائے۔ اور خود ظالموں کو بزور دین صحیح اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے جو ان کے لیے خیر ہے مگر وہ اپنی نادانی کی بنا پر اس کو نہیں سمجھتے۔ یہ قتال ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر جسم کے سڑے ہوئے عضو

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page