Al-Risala · July 1993 · page 55

حجۃ اللہ البالغہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۵

وہ صاحب جسم کے علی الرغم کاٹ کر پھینک دے :

المشار الثقلین اذا كان مفضيا الى الخير الكثير اور تھوڑا شرجب زیادہ خیر کی طرف لے جانے واجب فعله (الجزء الثانی ، صفحه ۱۷۰) والا ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ قتال کے حق میں شاہ ولی اللہ کی یہ دلیل جدید انسان کے مسلمات کے مطابق نہیں۔ اس کو سن کر جدید انسان کہے گا کہ آپ کا جذبہ صالح قابل قدر ہے۔ مگر آپ کی ایکیم سراسر نادانی کی اسکیم ہے۔ آپ کی یہ توجیہہ تلواروں کی لڑائی کے زمانہ میں باوزن محسوس ہو سکتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کی لڑائی میں وہ بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ نئے ہتھیار بن جانے کے بعد اب لڑائی خود تمام برائیوں سے زیادہ بڑی برائی بن چکی ہے ۔

آج کی لڑائی ایٹم بم کی لڑائی ہے۔ اور اگر ایٹم بم کی لڑائی چھیڑی جائے تو قدیم شمشیری جنگ کی طرح اس کا نقصان صرف مقاتل افراد تک یا جنگ کے میدان تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ پورے کرہ ارض پر اس کے اثرات پھیل جائیں گے۔ حتیٰ کہ اس کے بعد زمین ہی ناقابل رہائش ہو جائے گی۔ پھر جب خود انسانی دنیا ہی باقی نہ رہے گی تو وہ کون سا مقام ہوگا جہاں آپ جنگ جیت کر اپنا نظام خیر قائم کریں گے۔

۴۔ مولانا ابوالا علی مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن چھ جلدوں میں ہے۔ اس کی پانچویں جلد میں سورہ الصف (آیت ۶) کی تشریح کے تحت انجیل برناباس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس انجیل کے تعارف اور اس کے اقتباسات پر تفہیم القرآن میں دس صفحے شامل کیے گئے ہیں۔ اس انجیل کے بیانات مسلمانوں کے عقائد سے بہت زیادہ ملتے جلتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں "محمد" کا نام بھی موجود ہے مثلاً : سردار کاہن نے مسیح سے پوچھا کہ وہ آنے والا کس نام سے پکارا جائے گا۔ مسیح نے کہا کہ "سو اس کا مبارک نام محمد ہے"۔ اس انجیل میں درج ہے :

"اے محمد، انتظار کر ۔ کیوں کہ تیری ہی خاطر میں جنت ، دنیا اور بہت سی مخلوق پیدا کروں گا۔ اور اس کو تجھے تحفہ کے طور پر دوں گا۔ یہاں تک کہ جو تیری تبریک کرے گا اسے برکت دی جائے گی اور جو تجھ پر لعنت کرے گا اس پر لعنت کی جائے گی"

مولانا ابوالا علی مودودی کے علاوہ مولانا عبد الماجد دریا بادی وغیرہ نے بھی انجیل برناباس

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page