Al-Risala · July 1993 · page 58

خلاصہ بحث

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۸

چیز کو استدلال کی بنیاد بنایا گیا ہے وہ صرف متکلم کا عقیدہ ہے، وہ متکلم اور مخاطب دونوں کا مشترک مسئلہ نہیں۔ جدید انسان اس طرح کے معاملات میں صرف تاریخ کو معیار مانتا ہے۔ اور تاریخ ان میں سے کسی بات کا بھی ذکر نہیں کرتی۔ مدون انسانی تاریخ میں نہ انبیاء کاکوئی ذکر ہے ۔ اور نہ ان کے متحدالخیال ہونے کا۔ اسی طرح تاریخ میں نہ کذب بین انبیاء کا ذکر ہے اور نہ ان کے مختلف الخیال ہونے کا مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا مضمون (عقل کا فیصلہ) بتاتا ہے کہ وہ اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ موجودہ زمانہ میں عقلی استدلال کا معیار کیا ہے۔ انھوں نے نقلی دلیل پر مبنی کرتے ہوئے ایک مضمون لکھا اور اس کے اوپر عقلی استدلال کا عنوان قائم کر دیا۔

خلاصہ بحث

۱۔ علماء اسلام کو سب سے پہلے شعوری طور پر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ انھیں عملی سیاسیات سے مکمل طور پر الگ رہنا ہے۔ ان کا اصل کام وہ ہے جو علم و فکر اور دعوت و اصلاح کے میدان میں انجام دیا جاتا ہے۔ سیاسی معاملات میں بوقت ضرورت وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مگر سیاسی معاملات میں عملی حصہ لینا ان کے لیے کسی حال میں درست نہیں۔

۲۔ علماء کو مروجہ دینی تعلیم کے ساتھ لازمی طور پر عصر حاضر کے افکار سے بھی واقف ہونا چاہیے اس کے بغیر وہ عصر حاضر میں اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتے۔ ۳۔ علماء کے یہاں ایک دوسرے کے خلاف تنقید کی کھلی اجازت ہونا چاہیے ۔ اس کے بغیر لوگوں میں ذہنی جمود کا ٹوٹنا اور حکیمانہ بصیرت کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ ۴۔ علماء کے درمیان برداشت کے مزاج کو فروغ دینا چاہیے اور اختلاف کے باوجود اتحاد کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ جب تک ایسا نہ ہو، ملت کے اندر کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا۔

۵۔ امت کی تعلیم و تربیت کے ساتھ دوسرا اہم کام جو علماء کو انجام دینا ہے وہ دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی غیر مسلم قوموں کو دین حق کا پیغام پہنچانا اور اس کے جزوی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو آخری حد تک جاری رکھنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page