Al-Risala · July 1993 · page 57

حجۃ اللہ البالغہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۳، صفحہ ۵۷

دیگر انبیاء کے اوپر پیغمبر اسلام کے امتیاز کو ثابت کرنے کے لیے اس عبارت میں ایک مثال کو استعمال کیا گیا ہے۔ قدیم زمانہ میں مثال کو بطور دلیل استعمال کیا جاسکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کا انسان مثال کو دلیل کا قائم مقام نہیں سمجھتا۔ اس لیے عقلی استدلال کے طالب کے لیے مذکورہ مثال دلیل نہیں بن سکتی۔

اس سے قطع نظر، خود یہ مثال متکلم اور مخاطب کے درمیان کوئی متفق علیہ واقعہ نہیں ۔ آج کا ایک انسان ستاروں کو سورج سے چھوٹا نہیں مانتا۔ اور نہ وہ ستاروں کے غائب ہونے یا ڈوبنے کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ دونوں مظاہر موجودہ زمانہ میں اضافی ہیں نہ کہ واقعی۔ پھر جب پیش کردہ مثال کی واقعیت پر طرفین کا اتفاق نہ ہو تو وہ مخاطب کی نظر میں دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ ۶۔ مولانا ابو الاعلی مودودی (۱۹۷۹ء - ۱۹۰۳ء) کی مشہور کتاب تفہیمات حصہ اول میں ایک مضمون ہے جس کا عنوان ”عقل کا فیصلہ“ ہے۔ اس مضمون کا مقصد رسول کی رسالت کو عقلی دلیل کے ذریعہ ثابت کرنا ہے۔ مگر جو دلیل دی گئی ہے، وہ مذکورہ معیار کے مطابق اعتقادی دلیل ہے نہ کہ عقلی دلیل۔

اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ پچھلے ہزاروں سال کے اندر کثرت سے انبیاء آئے۔ ایک طرف یہ ہزاروں انبیاء تھے جن کے درمیان باہمی طور پر کوئی اتصال نہ تھا۔ اس کے با وجود ان سب نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی۔ ان سب نے ہمیشہ ایک ہی بات کی طرف دعوت دی۔ انھوں نے کبھی ایک دوسرے سے مختلف پیغام دنیا کو نہیں دیا۔ اس کے برعکس ان کا انکار کرنے والوں کا حال یہ تھا کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف باتیں کرتے رہے۔ مدعیان رسالت متحد الخیال تھے اور مکذبین رسالت مختلف الخیال۔

اب دونوں فریق کا معاملہ عقل کی عدالت میں پیش ہوتا ہے۔ عقل کی عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ متحد الخیال لوگ صحیح ہیں اور ایک سر چشمہ ہدایت سے بول رہے ہیں۔ اگر ان سب کا ایک سر چشمہ نہ ہوتا تو ان کے درمیان یہ کامل اتفاق ممکن نہ تھا، ان کے مقابلہ میں مختلف الخیال لوگ غلط ہیں۔ ان کا کوئی واحد ذریعہ علم نہیں۔ اسی لیے ہر ایک الگ الگ باتیں کر رہا ہے۔ دور جدید کے صاحب عقل کے لیے یہ دلیل قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اس میں جس

‹ Previous page Next page › Contents of July 1993 All issues

Printed page