Al-Risala · August 1993 · page 66

کتاب کی دنیا

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۶۶

کتاب کی دنیا

جس آدمی کئے پاس کتاب ہے وہ اکیلا نہیں ہے ـــــ اکیلا شخص وہ ہے جس کے پاس ذہنی مشغولیت کے لئے کچھ نہ ہو۔ کتاب آدمی کو بہترین ذہنی مشغولیت دیدیتی ہے۔ پھر جو آدمی کتاب پڑھے وہ اکیلا کیسے رہے گا۔

کتاب کیا ہے۔ وہ صاحب کتاب کے مطالعہ اور تجربہ کا نچوڑ ہے۔ ہر کتاب گویا ایک خاموش آدمی ہے۔ جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو گویا ہم کسی آدمی کے ساتھ خیالات کے تبادلہ میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایک کتاب پڑھنا ایک آدمی کی ہم نشینی ہے اور بہت سی کتابیں پڑھنا بہت سے آدمیوں کی ہم نشینی۔

ایک آدمی محدود مدت تک زندگی گزار کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اگر کتاب کا طریقہ نہ ہو تو گزرے ہوئے آدمیوں کے بارہ میں جاننا ہمارے لئے ناممکن ہو جائے۔ مگر کتاب کی صورت میں آدمی کے بعد بھی اس کا ریکارڈ موجود رہتا ہے۔ کتاب کے ذریعہ یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آپ ایک مقام پر رہ کر ساری دنیا کے لوگوں سے مل سکیں۔ آپ ایک زمانہ میں ہوتے ہوئے ہر زمانہ کے لوگوں کے خیالات سے فائدہ اٹھائیں۔

کتاب کا مطالعہ آدمی کے علم کو بڑھاتا ہے۔ اس کے تجربات کو شخصی سطح سے بڑھا کر عمومی انسانیت کی سطح تک پہنچا دیتا ہے۔ کتابوں کی لائبریری گویا عالمی انسانی اجتماع ہے۔ اس اجتماع گاہ میں داخل ہو کر آپ کسی بھی وقت کسی بھی آدمی کی بات سن سکتے ہیں، کسی بھی جگہ کسی بھی آدمی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

کتاب کے طریقہ نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ آپ سفر کے بغیر دوسروں سے واقفیت حاصل کریں اور اسی طرح خود اپنے سے دوسروں کو واقف کرائیں۔ ملاقات کا سب سے بڑا کمرہ وہ ہے جہاں کتابیں ہوں، واقفیت کا سب سے بڑا ذریعہ اس کے پاس ہے جو کتابوں سے استفادہ کرنے میں لگا ہوا ہو۔ کتاب بہترین دماغوں کا ریکارڈ ہے۔ کتاب اعلیٰ انسانوں کی نمائندہ ہے۔ کتاب علم کا خزانہ ہے۔ اور بلاشبہ اس دنیا میں علم کے خزانہ سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page