اگلا پیرا گراف
الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۶۷
اگلا پیرا گراف
زندگی ایک طویل اکتادینے والی کہانی ہے۔ اسی قسم کہانی کو صرف وہی شخص کامیابی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے جس کی توجہ ہمیشہ کہانی کے اگلے پیرا گراف پر لگی رہے ۔ ہر آدمی کی زندگی اس کی ایک کہانی ہے، خواہ وہ چھوٹا آدمی ہو یا بڑا آدمی۔ خواہ وہ معمولی حالات میں زندگی گزار رہا ہو یا اونچے اور شاندار حالات میں۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک تلخ تجربہ کا نام ہے۔ کھوئے ہوئے مواقع کا افسوس، گزرے ہوئے حادثات کی تلخیاں ، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والے برے سلوک کی یاد، اپنی کمیوں اور تنگیوں کی شکایت ، غرض بے شمار چیزیں ہیں جو آدمی کی سوچ کو منفی رخ کی طرف لے جاتی ہیں۔ آدمی اگر ان باتوں کا اثر لے تو اس کی زندگی ٹھہر کر رہ جائے گی۔
ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی پیچھے دیکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھے۔ وہ گزرے ہوئے دنوں کے بجائے آنے والے دن پر اپنی نظریں جمائے رکھے ۔
ہر آدمی اپنے قول و عمل سے اپنی زندگی کی کہانی لکھ رہا ہے۔ مگر اس کو خود نہیں معلوم کہ اس کہانی میں کون سے مراحل پیش آئیں گے ، اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ یہ کہانی کہاں جا کر ختم ہوگی۔ اس لئے لازم ہے کہ آدمی ہر سامنے آنے والے مرحلہ کا استقبال کرے۔ کہانی کے اگلے ابواب لکھنے کی کوشش میں وہ آگے ہی بڑھتا چلا جائے۔
زندگی میں اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ اس نے کیا پایا۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ وہ کیسے جیا۔ یہ ممکن ہے کہ ایک کم آمدنی والا شخص اچھی زندگی گزارے اور ایک دولت مند آدمی بری زندگی گزار کر مر جائے۔ ایک جاہل آدمی اپنے معاملات میں زیادہ سمجھ داری کا ثبوت دے اور ایک پڑھا لکھا آدمی اپنے معاملات کو سلجھانے میں بے سلیقہ ثابت ہو۔
یہ نہ دیکھئے کہ آپ زندگی میں کیا حاصل کر رہے ہیں۔ یہ دیکھئے کہ آپ زندگی کس طرح گزار رہے ہیں۔ جس شخص کو اچھی زندگی گزار نا آجائے وہی وہ شخص ہے جو دنیا میں کامیاب رہا۔ وہی وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے مستقبل تک پہنچایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues